Behta pani
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Pyaas recited by Shahid Baltistani
آگ سینے میں لگاتا رہا بہتا پانی
بعد عاشور اسیروں نے جو دیکھا پانی
جب علمدار کے بازو کو قلم دیکھ لیا
پھر اسیروں نے کسی سے بھی نہ مانگا پانی
آگ سینے میں۔۔۔
ایک حسرت سے وہ دریا کی طرف دیکھتی ہے
بچے آ آ کے جو کہتے ہیں سکینہ پانی
آگ سینے میں۔۔۔
وعدہ اصغر سے نبھاتے ہوے دم توڑ گیء
ساے میں آی نہ ماں نے پیا ٹھنڈا پانی
آگ سینے میں۔۔۔
تربت ثانیء زہرا کی مجاور بن کر
راہ گیروں کو پلاتی رہی فضہ پانی
آگ سینے میں۔۔۔
کاش ثقلین میرے خواب کو تعبیر ملے
مرتے دم میرے گلے سے نہیں اترا پانی
آگ سینے میں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.