Abbas piye kaise
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Pyaas recited by Shareef Hussain
عباس پیئے کیسے پانی عباس کا آقا پیاسا ہے
خیمے میں سکینہ پیاسی ہے اور بچہ بچہ پیاسا ہے
عباس نے جب پینے کو کہا رہوار نے بھی منہ پھیر لیا
مطلب تھا یہی میں کیسے پیئوں بے شیر ہمارا پیاسا ہے
عباس پیئے کیسے۔۔۔
برسات کا موسم بھی تو نہیں پانی کا برسنا ناممکن
دریا بھی عدو کی قید میں ہے شبیر کا کنبہ پیاسا ہے
عباس پیئے کیسے۔۔۔
پیا جو سکینہ نے پانی یہ کہہ کے بڑھی مقتل کی طرف
اصغر کو پلائوں گی پہلے ننھا میرا بھیا پیاسا ہے
عباس پیئے کیسے۔۔۔
جب شیرِ خدا نے پیاسوں کوکوثر پہ دیا جامِ کوثر
منہ پھیر لیا سب نے کہہ کر احمدکا نواسا پیاسا ہے
عباس پیئے کیسے۔۔۔
لاغر ہے بہت بیمار بھی ہے زنجیر بدن سے بھاری ہے
دُرّے نہ لگا عابد کے شقی واللہ یہ بھوکا پیاسا ہے
عباس پیئے کیسے۔۔۔
آزاد ہوئی عطرت لیکن زندان میں سکینہ ہے اب تک
چھڑکائو لحد پر کون کرے ہر ذرا ذرا پیاسا ہے
عباس پیئے کیسے۔۔۔
اشکوں کے یہ جھڑنے آنکھوں سے چودہ سو برس سے جاری ہیں
سیراب ابھی تک ہو نہ سکا رومالِ زہرا پیاسا ہے
عباس پیئے کیسے۔۔۔
عباس کا جس میں ذکر نہ ہو بے شیر کی جس میں پیاس نہ ہو
کتنے بھی مصائب ہوں انور لیکن وہ نوحہ پیاسا ہے
عباس پیئے کیسے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.