Shaam ne maar diya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Raza Abbas Zaidi
روضے پہ نبی کے آ کے
شانوں کے نیل دکھا کے
زینب یہ بکا کرتی تھی
ہاے نانا شام نے مار دیا ہے
دکھ شام غریباں کے سہہ کر
زندہ رہی غازی کی خواہر
جب برسے اسیروں پر پتھر
سر غازی کا نیزے سے گرا
شام نے مار دیا ہے
ہاے نانا۔۔۔
اکبر کا جگر چھلنی دیکھا
صابر کی بہن نے صبر کیا
دروں سے بدن زخمی تھا میرا
میں چپ تھی مگر محبوب خدا
شام نے مار دیا ہے
ہاے نانا۔۔۔
جب عون و محمد قتل ہوئے
شبیر اٹھا لائے لاشے
میں شکر کے کرتی تھی سجدے
سر اونچا میرا بچوں نے کیا
شام نے مار دیا ہے
ہاے نانا۔۔۔
دامن میں اٹھا کر شاہ ہدا
جب قاسم کا لائے لاشہ
چھپ چھپ کے کیا میں نے گریہ
غم اپنا کبھی ظاہر نہ کیا
شام نے مار دیا ہے
ہاے نانا۔۔۔
کیوں مر نہ گئی اب سوچتی ہوں
عابد کا بہا جب آنکھ سے خوں
زندہ رہی میں بے چین و سکوں
شام آ گیا جس دم میں نے سنا
شام نے مار دیا ہے
ہاے نانا۔۔۔
تر خوں میں ہوا اصغر کا گلا
تھا تیر بھی اس کے قد سے بڑا
بانو کو دلاسہ میں نے دیا
کرتی رہی میں بے تیغ وغا
شام نے مار دیا ہے
ہاے نانا۔۔۔
اس شہر ستم میں اے نانا
کیا تم سے کہوں کیا حال ہوا
فضہ کو کسی نے کچھ نہ کہا
دروں کی ملی زینب کو سزا
شام نے مار دیا ہے
ہاے نانا۔۔۔
صغرا نے سکینہ کو پوچھا
میں کیا کہتی رونے کے سوا
جب اس نے بہت مجبور کیا
تب سر کو جھکائے میں نے کہا
شام نے مار دیا ہے
ہاے نانا۔۔۔
جو شیر خدا کی بیٹی تھی
عباس کے تیور رکھتی تھی
جو موت سے بھی اک پل نہ ڈری
اس بی بی کو ریحان و رضا
شام نے مار دیا ہے
ہاے نانا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.