Zindan se chuth ke
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Rehaai recited by Farhan Ali Waris
کربلا آگےء سادات کربلا آگےء سادات
اٹھیے حسین آپ کے زوار آے ہیں
زنداں سے چھٹ کے عابد بیمار آے ہیں
بھولے نہیں ہیں شام اور کوفے کے راستے
ترسے ہوے ہیں مولا یہ ماتم کے واسطے
سب کچھ لٹا کے آپ کے غم خوار آے ہیں
زنداں سے چھٹ کے۔۔۔
زینب نے چلتے ناقے سے قد کو گرا دیا
پھر کہنیوں سے چل کے گیء بھای سے کہا
ہم لوگ ہوکے کوچہء و بازار آے ہیں
زنداں سے چھٹ کے۔۔۔
گردن پہ اور جسم پہ زنجیر کے نشاں
اک ایک زخم درد کی کہتا ہے داستاں
زنداں سے زندہ لوٹ کے لاچار آے ہیں
زنداں سے چھٹ کے۔۔۔
جی کھول کر یہاں تیرا ماتم کریں گے ہم
کربوبلا میں مجلس چہلم کریں گے ہم
اے مولا شام والے عزادار آے ہیں
زنداں سے چھٹ کے۔۔۔
زنداں میں ایک تیری عزاداری رہ گیء
کربوبلا نہ آی نہ زنداں سے گھر گیء
دفنا کے اس کو عابد بیمار آے ہیں
زنداں سے چھٹ کے۔۔۔
زنداں میں کرکے آیا ہے مجلس یہ کارواں
سب بی بیاں تھی ماتمی زینب تھی نوحہ خواں
محو بکا و دیدۂ خوں خوار آے ہیں
زنداں سے چھٹ کے۔۔۔
کیسا سفر بتول کی بیٹی نے طے کیا
دیتے نہیں تھے اسیروں کو راستہ
طے کرکے ساری منزلیں دشوار آے ہیں
زنداں سے چھٹ کے۔۔۔
بے درد تھے وہ شام اور کوفے کے مکیں
تنگ ہوگئی تھی آل محمّد پہ یہ زمیں
سادات ہوکے جینے سے بے زار آے ہیں
زنداں سے چھٹ کے۔۔۔
فرحان و مظہر عابدی کیوں نہ ہو نوحہ گر
سجاد چھٹ کے قید سے بابا کی قبر پر
لے کر نشان طوق گراں بار آے گا
زنداں سے چھٹ کے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.