Utho sakina chale
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Rehaai recited by Mir Hasan Mir
زنداں سے جب رہا ہوئے سادات کربلا
ماں نے لپٹ کے قبر سکینہ پہ دی صدا
اٹھو سکینہ چلیں کربلا
چھوٹی سی تربت پہ ماں نے کہا
زنداں سے جاتا ہے اب قافلہ
مجھے شاہزادی تمہاری قسم
نہ رکھوں گی زنداں سے باہر قدم
سفر کی اب ہوتی ہیں تیاریاں
عماری میں بیٹھے ہیں اہلِ حرم
غربت کا میرے تمہیں واسطہ
اٹھو سکینہ چلیں۔۔۔
وہ پہلے کے جیسی تو غربت نہیں
اے بی بی ہماری وہ حالت نہیں
تمہیں شامیوں سے اب اے میری جاں
کفن مانگنے کی ضرورت نہیں
لو مل گئی ہے تمہاری ردا
اٹھو سکینہ چلیں۔۔۔
مجھے یاد اصغر کی ہے بیکسی
لحد سے وہ میت نکالی گئی
اکیلے میں رہنے نہ دونگی تمہیں
بھروسہ نہیں شامیوں کا کوئی
رہتے ہیں چاروں طرف اشقیاء
اٹھو سکینہ چلیں۔۔۔
یہ شامی کہاں تمکو بہلائیں گے
تمہاری لحد پر نہیں آئیں گے
رہے گا اندھیرا ہی زنداں میں
حرم جب یہاں سے چلے جائیں گے
کون آئے گا پھر جلانے دیا
اٹھو سکینہ چلیں۔۔۔
کہانی پدر کی سناؤنگی میں
اگر نیند آئی سلاؤں گی میں
اکیلے نہ ناقے پہ بیٹھوگی تم
تمہیں ساتھ اپنے بٹھاؤں گی میں
اب تو رسن میں نہ ہوگا گلا
اٹھو سکینہ چلے۔۔۔
مجھے مار ڈالے گا بس یہی غم
کمر میں ہے بیٹی تمہاری جو خم
ورم بازوؤں کا مجھے یاد ہے
تمہیں تو دکھائی بھی دیتا ہے کم
اکبر سے بی بی ملے گی شفاء
اٹھو سکینہ چلیں۔۔۔
بڑی دیر ٹھہری ہیں دربار میں
یہاں پر نہ روکو زیادہ انہیں
کہ پہلو پہ اک ہاتھ رکھے ہوئے
صدا دے رہی ہیں سکینہ تمہیں
لینے کو آئی ہے خود سیدہ
اٹھو سکینہ چلے۔۔۔
تھی زنداں میں اکبر عجب وہ گھڑی
رہائی پہ روتی تھی ہر ایک پھپھی
ادھر خون روتا تھا عابد ادھر
سکینہ لحد میں تڑپتی رہی
جب بھی یہ مادر نے رو کر کہا
اٹھو سکینہ چلے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.