Qaid se chut ke
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Rehaai recited by Mir Rehan Abbas
قبر شہ کی بنائی ہے زینب
کچھ یتیموں کو لای ہے زینب
کہتی ہے رو کے لو خبر بھای
ختم اب ہو گیا سفر بھای
قید سے چھٹ کے آی ہے زینب
صدمے دل پر اٹھای ہے زینب
میں ہوں زینب فلک ستای ہوں
تم سے ملنے یہاں میں آی ہوں
اور لٹے قافلے کو لای ہوں
بھای کیا کیا ستم اٹھای ہوں
شام تک ننگے سر گیء زینب
کیوں نہ پہلے ہی مر گیء زینب
قید سے چھٹ کے۔۔۔
اٹھکے دیکھو تو اک نظر بھای
ٹکڑے صدموں سے ہے جگر بھای
ہو گیا ہے سفید سر بھای
جھک گیء ہے میری کمر بھای
وعدہ پورا میں کر کے آی ہوں
پشت پر تازیانے کھای ہوں
قید سے چھٹ کے۔۔۔
سارے کنبے کو ساتھ لای تھی
محنتوں سے یہ گھر بسای تھی
میں نے دولت یہ ماں سے پای تھی
ہو گیء دفن جو کمای تھی
اب ہو کیوں کر میری بسر بھای
ہاے کس منہ سے جاؤں گھر بھای
قید سے چھٹ کے۔۔۔
تھی مقدر میں میری رسوائی
کیوں نہ دربار ہی میں موت آی
پیش حاکم گیء یہ دکھ پای
غصہ آیا تھا پی گیء بھای
جو ہوے ظلم سہہ گیء زینب
سب کے رونے کو رہ گیء زینب
قید سے چھٹ کے۔۔۔
کیا بتاؤں جو گزرے رنج و محن
بازوؤں میں میرے بندھی تھی رسن
تھے تماشائی سارے مرد و زن
لٹ گیء لٹ گیء میں شاہ زمن
پھری بازار شام میں زینب
گیء دربار عام میں زینب
قید سے چھٹ کے۔۔۔
جب کیا ہم کو داخل زنداں
نام کو بھی نہ روشنی تھی وہاں
رو کے کہتی تھی یہ سکینہ جاں
یاں سے لیکر چلو پھپھی اماں
مجھ سے برداشت ہو نہیں سکتی
میں اندھیرے میں سو نہیں سکتی
قید سے چھٹ کے۔۔۔
مارتے تھے طمانچے بانیء شر
کان سے اس کے چھین کر گوہر
ہو گیا تھا لہو میں کرتہ تر
کیا کہوں اب کہ پھٹ رہا ہے جگر
شمر کی کھا کے سیلیاں بھای
مر گیء تیری نیم جاں بھای
قید سے چھٹ کے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.