Na asghar hai na
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Rehaai recited by Mir Hasan Mir
ہائے اصغر ہائے سکینہ
زنداں سے رہا ہو کر بانو
اب کیا جائے گی مدینہ
نہ اصغر ہے نہ سکینہ
بی بی کے لئے کتنا مشکل
اس حال میں ہوگا جینا
نہ اصغر ہے نہ سکینہ
خالی جھولا شہزادے کا
اور خون میں تر اک بالی
جب دیکھے گی گھر میں آ کر
زندان سے آنے والی
ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا
بے خنجر اس کا سینہ
نہ اصغر ہے نہ سکینہ
زنداں سے رہا ہو کر۔۔۔
ایک کی تربت تاریکی میں
اور دھوپ میں اک کا لاشہ
وہ بھی پیاسی دنیا سے گئی
اور مر گیا وہ بھی پیاسا
کس کو بالی پہنائے اب
اور کس کو جھلائے جھولا
نہ اصغر ہے نہ سکینہ
زنداں سے رہا ہو کر۔۔۔
جب کھیلتے بچے دیکھے گی
کیا گزرے گی بانو پر
یاد آئینگے جب اپنے بچے
چل جائیگا دل پر خنجر
جب ساتھ نہیں دینگی سانسیں
کیسے وہ رہے گی زندہ
نہ اصغر ہے نہ سکینہ
زنداں سے رہا ہو کر۔۔۔
اب اس سے بڑا کیا ہوگا ستم
اے چشم فلک تو بتلا
اولاد سے رونق ہوتی ہے
اٹھتا ہے جو کوئی لاشہ
لیکن بانو کی میت پر
اب کون ہے رونے والا
نہ اصغر ہے نہ سکینہ
زنداں سے رہا ہو کر۔۔۔
جو بات کہی تھی بچوں سے
اس نے تا عمر نبھائی
نہ پانی پیا ٹھنڈا اس نے
نہ خود سائے میں آئی
بس دھوپ میں بیٹھی شام و سحر
کہتی ہی رہی یہ حزینہ
نہ اصغر ہے نہ سکینہ
زنداں سے رہا ہو کر۔۔۔
لوری کی صدا نوحہ بن کر
زنداں سے گھر تک آئی
ماں سے صغرا یہ پوچھتی ہے
یہ کیسے ہے تنہائی
اب ماں نے اگر سچ بول دیا
تو مر حائے گی صغرا
نہ اصغر ہے نہ سکینہ
زنداں سے رہا ہو کر۔۔۔
نوحے میں کہاں تک میر حسن
ریحان وہ منظر لکھے
آواز تیری نوحے میں ڈھلی
آتی ہے صدا ماتم سے
یہ کہہ کر اے پرسہ داروں
زہرا کو پرسہ دینا
نہ اصغر ہے نہ سکینہ
زنداں سے رہا ہو کر۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.