Mujhe bhi watan le
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Rehaai recited by Mir Hasan Mir
جب رہا شام کے زندان سے ہوئے اہلِ حرم
کیا خوشی ہوتی، دوبالاہوا سادات کا غم
جس کو ارمانِ رہائی تھا ہوئی وہ بے دم
اک ننھی سی لحد پر تھا مسلسل ماتم
سن کے فریاد و فغاں سانس رُکی جاتی تھی
قبر سے بالی سکینہ کی صدا آتی تھی
وطن جانے والو
مجھے بھی وطن لے چلو
میں کیسے رہوں گی یہاں پر
یہاں ہے بھلا کون میرا
مجھے بھی وطن لے چلو۔۔۔
رہا ہو کے گھر جانے والو
مجھے بھی کہیں پر بٹھا لو
شہیدوں کے سر ہیں جہاں پر
مجھے بھی وہیں پر سُلا دو
میں بابا کے سر سے لپٹ کر
سفر کاٹ لوں گی یہ سارا
مجھے بھی وطن لے چلو۔۔۔
نہ یوں چھوڑ کر جاو اماں
مجھے شامیوں کے سہارے
یتیمی کی ماری ہوئی کو
ستایا بہت ظالموں نے
بہت خوف آتا ہے مجھ کو
تمہیں واسطہ سیدہ کا
مجھے بھی وطن لے چلو۔۔۔
سُنا ہے کہ واپس ملے ہیں
تمہیں شمر سے میرے گوہر
بھلا کیا کرو گی تم اُن کا
اگر رہ گئی میں یہاں پر
انہیں بھی امانت سمجھ کر
یا دفنا دو زنداں میں یا
مجھے بھی وطن لے چلو۔۔۔
جو پہنچے مدینہ تو اماں
پھر وقتِ مصیبت نہ آئے
سِناں اور اکبر کی باتیں
سُنانیں کی نوبت نہ آئے
میری لاش کو دیکھ کر ہی
سمجھ لے گی ہر بات صغریٰ
مجھے بھی وطن لے چلو۔۔۔
یہ ہی سوچ کر زیرِ تُربت
تڑپتا ہے دُکھیا کا لاشہ
مجھے شمر کے شہر میں اب
ہمیشہ ہی رہنا پڑے گا
دھڑکتا نہیں پھر بھی اماں
یہ دل کانپ جاتا ہے میرا
مجھے بھی وطن لے چلو۔۔۔
سرِ شاہِ دیں کچھ تو بولو
سفارش کرو کچھ ہماری
قضا آ گئی ہے تو پھر کیا
میں بیٹی ہوں بابا تمہاری
نہ انکار کر پائیں گی وہ
پھوپھی سے ذرا کہہ دو بابا
مجھے بھی وطن لے چلو۔۔۔
یہ حالت تھی ہر اک قدم پر
مدینے کے رستے میں اکبر
گری تھی جہاں پر سکینہ طمانچے لگے تھے جہاں پر
وہاں خاک سے قیدیوں کو
صدائیں یہ آتی تھی ہر جا
مجھے بھی وطن لے چلو۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.