Jab hukme rehai mila
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Rehaai recited by Nadeem Sarwar
جب حکمِ رہائی ملا زنداں سے حرم کو
اک گھر بھی میسر ہوا ترسیدئہ غم کو
اُس گھر پہ لگایا اک سیاہ علم کو
زینب نے کہا رونا ہے دل کھول کے ہم کو
پھر فرشِ عزائ مل کے اسیروں نے بچھایا
اور شام کے گھر گھر سے پئے پُرسہ و گریہ
اک غول عزادار خواتین کا آیا
پھر مجلسِ اوّل کا یوں آغاز ہوا تھا
اُس مجلسِ اوّل کی جو اوّل تھی خطیبہ
گھر بھر کی عزادار وہی زینبِ کبریٰ
خطبہ پڑاآغاز کیا مجلسِ غم کا
ہائے خطبہ ابھی جاری تھا اک شور سا اُٹھا
کہ سر آتے ہیں مجلس میںشہیدانِ ستم کے
اے بیبیوں ماتم کرو حلقِ میں حرم کے
ہائے ہم لُٹ گئے
ہائے برباد ہوئے
ہائے قیدی بنے
ہائے در در پھرے
ہائے ماتم کرو
ہائے پہلے وہاں انصارِ حسینی کے سر آئے
حُر جون حبیب ابنِ مظاہر کے سر آئے
وہبِ قلبی عوسجہ تشنہ جگر آئے
ماتم ہوا اُس پہلے عزاخانے میں ایسے
شہزادیاں روتیں ہوں سگے بھائی کو جیسے
ہائے ہم لُٹ گئے ۔۔۔
ہائے اک چاند سا سر دیکھا جو خون میں تر ہے
سب کہنے لگے یہ کسی نوشاہ کا سر ہے
فروا نے کہا ہاں یہ میرا لختِ جگر ہے
ارے قاسم مجھے سہرا بھی دیکھانے نہیں آئے
ارے زندان سے اماں کو چھڑانے نہیں آئے
ہائے ہم لُٹ گئے ۔۔۔
ہائے دو چھوٹے سے سر گود میں سجاد جو لائے
زینب نے کہا عون و محمد میرے آئے
ارے قربان گئی کوئی میری گود میں لائے
روئی نہیں ماتم نہ کیا پیار تو کر لوں
اے بھائی اجازت ہے انہیں آج تو رولوں
ہائے ہم لُٹ گئے ۔۔۔
ہائے جیسے ہی عزاخانے میں اکبر کا سر آیا
زینب نے سرِ عون ومحمد کو ہٹایا
آغوش سے بھابی کی سر اکبر کا اُٹھایا
ارے چلّائی میرے لال ذرا آنکھیں تو کھولو
ارے صغرا کے لئے ہے کوئی پیغام تو بولو
ہائے ہم لُٹ گئے ۔۔۔
ہائے اک چھوٹے سے سید کا جو سر سامنے آیا
منہ اشکوں سے ماں نے علی اصغر کا دھلایا
ہر بی بی نے اُس سرکوکلیجے سے لگایا
ارے رو رو کے سکینہ کو صدا دیتی تھی مادر
ارے آجائو تمہیں ڈھونڈریا ہے علی اصغر
ہائے ہم لُٹ گئے ۔۔۔
ہائے سر آیا وہاں جب بنی ہاشم کے قمر کا
روتے ہوئے ہر بی بی نے دکھڑا یہ سنایا
اے ضامنِ چادر تُو بہت دیر میں آیا
یہ دیکھ کے ہر بی بی کا صدچاک جگر تھا
کہ پہلو میں علم کے ہی علمدار کا سر تھا
ہائے ہم لُٹ گئے ۔۔۔
ہائے سر مجلسِ شبیر میں شبیر کا آیا
ہر بی بی کے لب پہ تھی صدا ہائے حسینا
ماتم کی صدائوں میں یہ زینب نے سُنایا
کہ اے میرے اخی دیکھ تیری فرشِ عزائ ہے
ماتم تیرا اس مجلسِ اوّل میں بپا ہے
ہائے ہم لُٹ گئے ۔۔۔
ہائے لُوٹے ہوئے اسباب میں جو چیز یںملی تھیں
سادات سے یہ شامِ غریباں میں چھنی تھیں
تر خون میں دو بالیاں بھی اُن میں رکھی تھیں
اے سرور و ریحان عزاداریئِ شہہ کا
تھا پہلا عزاخانہ سروںسے جو سجا تھا
ہائے ہم لُٹ گئے ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.