Ghar chalo ay
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Rehaai recited by Mir Mohsin Ali
گھر چلو گھر چلو اے سکینہ
قبرِ زنداں پہ زینب پُکاری
ہو گئی ہے رہائی ہماری
گھر چلو ۔۔۔
پوچھتی تھی یہ ہر بار مجھ سے
دیکھ کر آسماں کے پرندے
پھوپھی اماں یہ مجھ کو بتا دو
کب تلک جائیں گے ہم مدینے
اُٹھو اُٹھو سرور کی پیاری
گھر چلو ۔۔۔
کان زخمی ہیں اب تک ہمارے
اُٹھو مرہم اُنہیں میں لگادوں
گر تم نہ ساتھ آئو ہمارے
کیسے غازی کو چہرہ دیکھائوں
اپنے عموں کی تم ہو دُلاری
گھر چلو ۔۔۔
ہے غضب کا اندھیرا یہاں پر
اور کسی سمت اُجالا نہیں ہے
ہے پرائی یہ بستی یہاں کی
کوئی غمخوار اپنا نہیں ہے
ہو گئی یہ پھوپھی تم پہ واری
گھر چلو ۔۔۔
اب تو پیدل بھی تم نہ چلو گی
اور نہ ظلم و ستم کو سہو گی
نہ رسن کوئی باندھے گا تم کو
اور نہ ہاتھوں سے پردہ کرو گی
مل گئی ہے جو چادر تمہاری
گھر چلو ۔۔۔
جب میں جائوں گی اپنے وطن کو
اُجڑے گھر کو میں سہہ نہ سکوں گی
میری معصومع میری سکینہ
یہ بتائو اُسے کیا کہوں گی
تم کو پوچھے جو بہنا تمہاری
گھر چلو ۔۔۔
کربلا کی زمیں پہ ہے ا صغر
اور ساتھ اُس کے سوئے ہیں سرور
کون دلاسا اُسے دے گا دلبر
جو یہاں سو گئی ہو زمیں پر
مر نہ جائے یہ مادر تمہاری
گھر چلو ۔۔۔
قید ِ زنداں سے ہائے احمد
اب تلک بھی رہا ہو نہ پائی
شہ کی اس لادلی کو اے محسن
یہ زمین کس طرح راس آئی
کہہ رہی تھی پھوپھی غم کی ماری
گھر چلو ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.