Veerani
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Return to Madina recited by Mir Hasan Mir
ویرانی
زینب کو اور رلائے
ویران گھروں کی ویرانی
چالیس گھروں میں جا جا کر
کس کس کا سوگ منائے
ویرانی
زینب کو اور رلائے۔۔۔
اک آنگن میں ام سلمہ
صغرا کے آنسو پونچھے
دل پر اپنے پتھر رکھ کر
بی بی سے آ کر بولے
صغرا اٹھ جا ان رستوں سے
اب کوئی نہیں جو آئے
ویرانی
زینب کو اور رلائے۔۔۔
اک آنگن میں اصغر کے لئے
جلتی ہے دھوپ میں دکھیا
گھر بھر کی نظر ہے سورج پر
کب وقت غروب کا ہوگا
اور مادر کو یہ فکر ہے کے
یہ سورج ڈوب نہ جائے
ویرانی
زینب کو اور رلائے۔۔۔
اک آنگن میں بیمار پسر
آنکھوں سے خوں بہائے
بازاروں کا ہر ایک منظر
اشکوں میں ڈھلتا جائے
سجاد بہت صابر ہے مگر
اب کتنا صبر دکھائے
ویرانی
زینب کو اور رلائے۔۔۔
اک آنگن میں فضہ بیٹھی
ہر لمحہ یہ ہی سوچے
جا کر زہرا کی تربت پر
کیا بات کنیز یہ بولے
کیسے زینب دربار گئی
کیا زہرا کو بتلائے
ویرانی
زینب کو اور رلائے۔۔۔
اک آنگن میں بیٹھی ہے ماں
یاسین کا سورہ کھولے
وہ ذکر نبی کے لفظوں میں
ہمشکل نبی کو ڈھونڈے
روضے پہ نبی کے آ جائے
جب یاد اکبر کی آئے
ویرانی
زینب کو اور رلائے۔۔۔
اک آنگن میں عبداللہ اور
زینب بیٹھے ہیں تنہا
وہ عون و محمد کے غم میں
اک دوسرے کودیں پرسہ
دے داد پدر ہر حملے پر
جب مادر جنگ سنائے
ویرانی
زینب کو اور رلاے۔۔۔
کل تک اکبر اک زہرا تھی
جو بین کیا کرتی تھی
بابا کی جدائی کے غم میں
وہ آہیں بھرا کرتی تھی
اور آج بنی ہاشم کے مکاں
سب بیت الحزن ہے ہاے
ویرانی
زینب کو اور رلاے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.