Veeran gharon mein
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Return to Madina recited by Kazmi Brothers
شام سے لوٹ آے ہے مدینے والے
ویراں گھروں میں قید سے یوں واپسی ہوئی
کوئی دیا جلا نہ کہیں روشنی ہوئی
یہ حال ہے کہ بیٹیاں پہچانتیں نہیں
زینب خود اپنے گھر میں بھی اب اجنبی ہوئی
ویراں گھروں میں قید سے۔۔۔
زینب کے بازوؤں پہ یہ نیلے نشان ہیں
یا پھر رسن ہے ہاتھوں میں اب تک بسٍی ہوئی
ویراں گھروں میں قید سے۔۔۔
اکبر شہید ہو گئے لیکن وہ انتظار
صغریٰ ہے ایک وعدے سے اب تک بندھی ہوئی
ویراں گھروں میں قید سے۔۔۔
مہمل تو جا کے لوٹ بھی آئے ہیں شام سے
اک ماں کی زندگی ہے وہیں پر رکی ہوئی
ویراں گھروں میں قید سے۔۔۔
نیزے سے جو اتاری تھی شمرِ لعین نے
زینب کے خون سے ہے وہ چادر بھری ہوئی
ویراں گھروں میں قید سے۔۔۔
ننھی سی بالیوں پہ لہو سے لکھی ہے وہ
جو بات تھی سکینہ کے رخ پر لکھی ہوئی
ویراں گھروں میں قید سے۔۔۔
اکبر سروں پے کرب و بلا کی جو خاک تھی
اُس پر ہے قید خانے کی مٹی جمی ہوئ
ویراں گھروں میں قید سے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.