Shaam ka bazaar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Tableegh e Imamia
شام کا بازار عابدِ بیمار
پاؤں میں بیڑی
طوقِ گراں بار
شام کا بازار۔۔۔
بھولے گا نہ وہ منظر
نیزے پہ سرِ سرور
بے مقنع و بے چادر
بلوے میں پھُوپھی مادر
اور مجمعِ کفار
شام کا بازار۔۔۔
بازار کی زیبائی
کوٹھوں پہ تماشائی
اعداء کی صف آرائی
اور عالمِ تنہائی
وہ بے کس و لاچار
شام کا بازار ۔۔۔
دربار میں سر عُریاں
آتے ہیں حرم گریاں
اُٹھنے لگا اک طوفاں
محشر کا سا ہے ساماں
جنبش میں ہے دربار
شام کا بازار ۔۔۔
بو پائی تو گھبرا کر
بچی نے کہا رو کر
اس طشت میں ہے جو سر
وہ تو ہے سرِ سرور
کیسے کروں دیدار
شام کا بازار ۔۔۔
حاکم نے یہ سُن پایا
تو اور ستم ڈھایا
سر پوش کو سرکایا
اور بچی کو دکھلایا
چلائی وہ اک بار
شام کا بازار ۔۔۔
کچھ شمر سے فرما دو
گردن میری کھُلوا دو
سر بابا کا دلوا دو
اور اُس کو یہ سمجھا دو
مارے نہ ستم گار
شام کا بازار ۔۔۔
سر جا کے اُٹھاؤں میں
یا پاس بلاؤں میں
روداد سُناوں میں
سینے سے لگاوں میں
دیکھے بھرا دربار
شام کا بازار ۔۔۔
کہنے لگی پھر رو کر
پیاری ہے اگر دُختر
آ جاؤ یہ ہاتھوں پر
سب دیکھ لیں یہ منظر
اُلفت کا ہو اظہار
شام کا بازار ۔۔۔
دُختر کی صدا سُن کر
پھر طشتِ طلا سے سر
گودی میں گیا اُٹھ کر
نادان نے لپٹا کر
سر پر رکھے رُخسار
شام کا بازار ۔۔۔
جب بابا کا سر پایا
دل بچی کا بھر آیا
ہر ظلم کو دہرایا
لوگوں نے جو سُن پایا
آنکھیں ہوئیں خونبار
شام کا بازار ۔۔۔
زنداں میں انیسِ غم
کرتے ہیں حرم ماتم
ماں پوچھتی ہے پیہم
کیوں آنکھ ہے یہ پُر نم
کیا مر گئی دلدار
شام کا بازار ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.