Sab mar gaye
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Return to Madina recited by Ameer Hasan Aamir
زینب نے کہا تربت زہرا سے لپٹ کر
سب مر گئے اماں
تھا ناز مجھے جن پہ وہ اٹھارہ برادر
سب مر گئے اماں
جتنے بھی مدینے سے میرے ساتھ گےء تھے
وہ ساتھ نہ آے
یہ کیسے بتاؤں کہ کہاں زخم ہیں کھاے
سب خوں میں نہائے
وہ میرے محافظ وہ میرے مونس و یاور
سب مر گئے اماں
زینب نے کہا۔۔۔
مردوں میں فقط عابد مضطر ہے یا باقر
یہ میرا مقدر
پامال بدن خاک کے زروں کے برابر
دیکھے ہیں زمیں پر
کس طرح بتاؤں میرا تاراج ہوا گھر
سب مر گئے اماں
زینب نے کہا۔۔۔
کتنے ہی مکانوں کے مکیں ساتھ میں اجڑے
احباب سے بچھڑے
مقتل کا جو منظر تھا نہ دیکھا گیا مجھ سے
ٹکڑوں میں بدن تھے
تیروں پہ کہیں جسم تھے نیزوں پہ لکھا سر
سب مر گئے اماں
زینب نے کہا۔۔۔
چھ ماہ کے بچے کو بھی افسوس نہ چھوڑا
سر اس کا بھی کاٹا
دنیا میں بتاؤ تو کہیں ہوتا ہے ایسا
پھٹتا ہے کلیجہ
چہرے پہ ملا بھای نے خون علی اصغر
سب مر گئے اماں
زینب نے کہا۔۔۔
زنداں سے سکینہ کو نہ مل پائی رہائی
وہ بھی نہیں آی
سجاد نے اک ہاتھ سے زنجیر اٹھای
تب قبر بنائی
دن رات کہا کرتی تھی بچی میری رو کر
سب مر گئے اماں
زینب نے کہا۔۔۔
میں زنداں رہی ہاے مجھے موت نہ آئی
مارے گۓ بھای
جو ساتھ گئے تھے میں انھے ساتھہ نہ لای
دفنا بھی نہ پائی
چلتے ہیں میرے قلب پہ یہ سوچ کے خنجر
سب مر گئے اماں
زینب نے کہا۔۔۔
کس کس کو نشاں رسی کے اماں میں دکھاؤں
روداد سناؤں
صغریٰ کو قیامت کی خبر کیسے سناؤں
سینے سے لگاؤں
کس دل سے کہونگی میرے گلشن کے گل تر
سب مر گئے اماں
زینب نے کہا۔۔۔
آصف پڑھا زینب مضطر نے یہ نوحہ
بیہوش تھی صغرا
جب ماں کو دیا بیٹی نے مانجاے کا پرسہ
کہرام بپا تھا
عامر یہ خدا جانے سنا زہرا نے کیوں کر
سب مر گئے اماں
زینب نے کہا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.