Roze pe mustufa ke
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Return to Madina recited by Nadeem Sarwar
روضے پہ مصطفیٰ کے اُداسی سی چھائی ہے
کنبے کو کھو کہ زینبِ ناشاد آئی ہے
رو کر پکاری نانا کے فریاد لائی ہوں
میں چھوڑ کر حسین کو جنگل میں آئی ہوں
نانا ہمارے گھر کا سب اسباب لُٹ گیا
نانا ہمارے سر پہ نہ باقی رہی ردا
نانا ہزار طرح جفا کی لعینوں نے
خیمے میں ہائے آگ لگا دی لعینوں نے
روضے پہ مصطفیٰ کے۔۔۔
نانا عجیب سانحے ہم پر گُزر گئے
رنج و الم نے گھیر لیا ہم جدھر گئے
نانا خدا کے گھر میں نہ ہم کو اماں ملی
بھائی نے شہر چھوڑ کے جنگل کی راہ لی
روضے پہ مصطفیٰ کے۔۔۔
نانا شہید ہو گئے بھائی کے جانثار
اک اک کر کے مر گئے اصحابِ ذی وقار
نانا بلا کے بن میں قیامت کا رن پڑا
بھائی سے بھائی باپ سے بیٹا بچھڑ گیا
روضے پہ مصطفیٰ کے۔۔۔
نانا تمہاری شکل کا فرزند اک جو تھا
کھا کر سناں جگر پہ وہ مہرو بھی چل بسا
نانا شقی کے تیر سے اصغر ہوئے شہید
ایسا ہوا نہ ہو گا جہاں میں ستم شدید
روضے پہ مصطفیٰ کے۔۔۔
نانا زمینِ کرب و بلا لال ہو گئی
قاسم کی لاش گھوڑوں سے پامال ہو گئی
نانا کٹا کے شانوں کو عباس مر گئے
غربت میں بھائی جان کو بے آس کر گئے
روضے پہ مصطفیٰ کے۔۔۔
نانا ہوئیں اسیر تمہاری نواسیاں
کون و مکاں میں چھا گئی غم کی اُداسیاں
نانا حرم حسین کے بازار میں گئے
ہم سر برہنہ کوفے کے دربار میں گئے
روضے پہ مصطفیٰ کے۔۔۔
نانا تمہاری آل گئی لُٹ کے شام میں
پہنچیں علی کی بیٹیاں دربارِ عام میں
نانا اسیر صاحبِ تطہیر ہو گئے
ہم لوگ شہرِ شام میں تشیر ہو گئے
روضے پہ مصطفیٰ کے۔۔۔
نانا اسیر باراں تھے اور ایک تھی رسن
باندھے گئے تھے مثلِ گنہگارِ خستہ تن
نانا ہم اپنے حال پہ روتے تھے حال زار
نانا ہمارے حال پہ ہنستے تھے بدشعار
روضے پہ مصطفیٰ کے۔۔۔
اک اک کا نام پوچھتا تھا بانیئے ستم
نانا بتاتا جاتا تھا شمرِ جفا شیشن
یہ زینبِ حزیں ہے وہ کلثومِ دلفگار
اُنگلی اُٹھا اُٹھا کے دیکھاتا تھا نابِ کار
روضے پہ مصطفیٰ کے۔۔۔
نانا عجیب حال تھا ہمارا اُس گھڑی
اک بی بی پیچھے دوسری بی بی کے چھُپتی تھی
اُس وقت تھر تھری سی میرے تن میں پڑ گئی
صد ہیف ہے زمین میں زینب نہ گڑ گئی
روضے پہ مصطفیٰ کے۔۔۔
اتنے میں ایک شامی نے نانا غضب کیا
سیدانی کو کنیزی میں نا نا طلب کیا
ہوتی تھیں لاکھ ذلتیں ہم دیکھتے رہے
ہنس ہنس کے تازیانِ ستم جھیلتے رہے
روضے پہ مصطفیٰ کے۔۔۔
نانا تباہ ہو کے ہم آئے ہیں شام سے
اک داغِ نو سکینہ کا لائے ہیں شام سے
اب تک ہیںنیل رسی کے شانوں کو دیکھ لو
نانا ہمارے تن پہ نشانوں کو دیکھ لو
روضے پہ مصطفیٰ کے۔۔۔
زینب جو رو کے کرتی تھی قبرِ نبی پہ بین
تھرا رہا تھا روضہِ سُلطانِ مشرقین
بس ختم کر نثار یہ غمناک داستاں
روئے ہیں اس عالم مین زمیںاور آسماں
روضے پہ مصطفیٰ کے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.