Na tera bhai raha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Return to Madina recited by Raza Abbas Zaidi
جب سنا صغرا نے لوٹ آیا وطن میں قافلہ
ہائے جب پہنچیں تو منظر دیکھکر روکے کہا
اے پھوپی اماں بھرا گھر تھابھائیوں سے میرا
کیا ہوا کربوبلا میں کچھ تو بتلائیں زرا
ہائے روتے ہوئے زینب نے کہا اے صغرا
نا تیرا بھائی رہا نا ہی میرا بھائی رہا
باپ جیتا بھی تو کس طرح سے یہ غم سہ ے
بھائی کو پیار ہی اتنا تھا علی اکبر سے
جس گھڑی سینہِ اکبر سے سناں کو کھیچا
نا تیرا بھائی رہا۔۔۔
ہائے جس مشک میں اصغر کے لئے تھا پانی
ہاں اُسی مشک میں سانسیں تھی میرےغازی کی
نہر پر مشک پہ جب تیر لگا پانی بہا
نا تیرا بھائی رہا۔۔۔
ساتھ عباس تھے اکبر تھے بڑی ڈھارس تھی
کس میں جرت تھی نظر ہم پہ اُٹھاتا کوئی
تھا یہی ایک سبب ہم جو ھوئے بے پردہ
نا تیرا بھائی رہا۔۔۔
کیسے بتلاؤں ستم اُس نے اُٹھائے کتنے
شمر نے دُرّے سکینہ کو لگائے کتنے
کھا گیا شام کے زنداں میں اُسے یہ صدمہ
نا تیرا بھائی رہا۔۔۔
یہ تو اچھا ہی ہوا تم نا گئی کربوبلا
تم سے دیکھا ہی نہیں جاتا جو میں نے دیکھا
سینہ اکبر کا چھدا کٹ گیا سرور کا گلا
نا تیرا بھائی رہا۔۔۔
میری ان آنکھوں کی ٹھنڈک تو میرے بھائی تھے
میں نے ان آنکھوں سے دیکھا ہے اُنہیں مرتے ہوئے
کیسے زندہ ہوں میں اب تک یہ مجھے صغرا بتا
نا تیرا بھائی رہا۔۔۔
بس تیرے واسطے آئی ہے مدینے زینب
ورنہ مقصد میرے جینے کا نہیں کوئی بھی اب
ہائے اب کون سہارا ہے میرے جینے کا
نا تیرا بھائی رہا۔۔۔
فاطمہ بنتِ حسن سے یہ کہا کچھ بول
بھیا قاسم بھی نہیں آتے نظر کیوں مجھکو
فاطمہ بنتِ حسن کہنے لگیں اے صغرا
نا تیرا بھائی رہا۔۔۔
کیسی بہنوں پہ جدائی یہ قیامت لائی
ساری بہنوں کی صداؤں میں تھا بھائی بھائی
سنکے زیشان و رضا رویا مدینہ سارا
نا تیرا بھائی رہا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.