Madine mai na jaungi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Return to Madina recited by Shareef Hussain
جب قید سے آزاد ہوئی آلِ پیعمبر
اور کرب و بلا آ گئے سب وارث و یاور
تب بیبیاں رونے لگیں قبروں سے لپٹ کر
عابد سی یہ فرمانے لگی زینب ِ مضطر
اے لال وطن چلنے پہ مجبور نہ کرنا
ماں جائے کی تربت سے مجھے دور نہ کرنا
مدینے میں نہ جائوں گی
حسین ابنِ علی کی قبر پہ آنسو بہائوں گی
مدینے میں نہ جائوں گی
اکیلا چھوڑ دوں کیسے میں زہرا کی کمائی کو
ابھی روئی نہیں دل کھول کے میں اپنے بھائی کو
یہاں فرشِ عزا شبیر کا میں تو بچھائوں گی
مدینے میں نہ جائوں گی۔۔۔
کوئی پوچھے گا قاسم کو کوئی پوچھے گا اکبر کو
کوئی عباس کو پوچھے گا کوئی آ کے سرور کو
ہوا برباد سارا گھر میں کس کس کو بتائوں گی
مدینے میں نہ جائوں گی۔۔۔
یہاں آئی تو اٹھارہ برادر ساتھ لائی تھی
چلی تھی جب مدینے سے بھرا گھر ساتھ لائی تھی
وہان جا کر نظر صغریٰ سے میں کیسے ملائوں گی
مدینے میں نہ جائوں گی۔۔۔
مدینے شوق سے جاتی علی اکبر اگر ہوتے
پسر ہوتے نہ ہوتے بھائی میرے ہمسفر ہوتے
جو ملنے بیبیاں آئیں گی میں تو مر ہی جائوں گی
مدینے میں نہ جائوں گی۔۔۔
کیا ہے قتل اعدا نے محمد کے نواسے کو
سکوں مل جائے گا اس امر سے دو دن کے پیاسے کو
حسین ابنِ علی کے نام پر پانی پلائوں گی
مدینے میں نہ جائوں گی۔۔۔
یہاں پر آن کر اب انبیائ آنسو بہائیں گے
حسن زہرا محمد حیدرِ کرار آئیں گے
حسین ابنِ علی کا مرثیہ سب کو سُنائوں گی
مدینے میں نہ جائوں گی۔۔۔
میرے بھائی کی تربت سُونا جنگل اور ویرانا
اندھیرا بن یہ تنہائی یہ چاروں سمت سناٹا
یہاں رہ کر غمِ شبیر کی بستی بسائوں گی
مدینے میں نہ جائوں گی۔۔۔
بیٹھایا کیسے انور ناقے پہ سرور کی خواہر کو
سُناتی تھی سُخن یہی مگر سجادِ مضطر کو
چراغِ قبر آنکھوں سے میں رو رو کر جلائوں گی
مدینے میں نہ جائوں گی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.