Shaam haye shaam
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Nasir Asghar Party
شام ہائے شام
تیری اُمت کے زیور پہن کے
دیکھو نانا چلی ہوں میں شام
شام ہائے شام۔۔۔
میں دیتی کفن تُجھ کو بھّیا
گر سر پہ رِدا میری ہوتی
گر ہوتے کھُلے ہاتھ میرے
تیرے زخموں کو ہاتھوں سے دھوتی
پابندِ رسَن سر برہنہ
دیکھو بھّیاچلی ہوں میں شام
شام ہائے شام۔۔۔
اے نانا میں کیسے سُنائوں
دربارِ شقی کا وہ منظر
سب قاری و حافظ تھے بیٹھے
اور سر پہ میرے نہ تھی چادر
اے نانا تیری بیٹیوں کو
کیوں لائے ہیں سر ننگے شام
شام ہائے شام۔۔۔
تیرے عابد پہ طاری غشی تھی
اور کلثوم سہمی کھڑی تھی
کبھی دیکھوں میں زخمی سکینہ
جس کے دامن میں آگ لگی تھی
کبھی روئوں میں اپنی رِدا کو
کبھی دیکھوں میں جلتے خیام
شام ہائے شام۔۔۔
تیرے بچوں کو لے کر گئی میں
شب بھر ساری روتی رہی ہوں
کبھی غازی کا لہجہ بدل کے
میں پہرے بھی دیتی رہی ہوں
ان بیوہ بہو بیٹیوں سے
کیوں کرتے نہیں ہو کلام
شام ہائے شام۔۔۔
جب روتی تھی بالی سکینہ
اور بابا کو اپنے بُلاتی
میں دیتی تھی اُس کو تسلی
اور سینے پہ اپنے سُلاتی
رُوٹھی زندان میں معصوم بچی
لے لے کے وہ بابا کا نام
شام ہائے شام۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.