Khafila ja raha hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Return to Madina recited by Sachay Bhai
قافلہ جا رہا ہے وطن کے لیئے
کربلا میں قیامت کا اک شور ہے
کوئی روتی اپنے جواں لال کو
رو رہی ہے کوئی کم سُخن کے لیئے
اپنی بربادیوں کو گوارا کیا
خون میں ڈوبے گُلوں کا نظارا کیا
دے دیا فاطمہ کا بھرا گُلستاں
کربلا تیرے اُجڑے چمن کے لیئے
قافلہ جا رہا ۔۔۔۔۔
قصرِ ظالم کبھی قید خانہ کبھی
نوکِ نیزہ کبھی تازیانہ کبھی
کون سی تھی اذیت جو دی نہ گئی
ہر جفا تھی اسیرِ محن کے لیئے
قافلہ جا رہا ۔۔۔۔۔
جب چلے تھے مدینے سے سب ساتھ تھے
عون و جعفر تھے اکبر تھے عباس تھے
جا رہی ہوں مدینے تو کوئی نہیں
اب مُصیبت فقط ہے بہن کے لیئے
قافلہ جا رہا ۔۔۔۔۔
قبرِ قاسم سے ہے یوں مُخاطب پھوپھی
تیری شادی کچھ اس طرح بن میں ہوئی
کوئی سہرے کا بھی پھول باقی نہیں
ورنہ لے جاتی قبرِ حسن کے لیئے
قافلہ جا رہا ۔۔۔۔۔
کوئی چادر نہ تھی کیسی بیداد تھی
ہاتھ ہوتے ہوئے بھی نہ آزاد تھی
کتنی مجبور کر دی گئی تھی بہن
اپنے بھائی کے دفن و کفن کے لیئے
قافلہ جا رہا ۔۔۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.