Shaam aa raha hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Shahid Baltistani
سادات بے ردا ہیں عابد کا سر جھکا ہے
شام آ رہا ہے
سارا لہو بدن کا آنکھوں میں آگیا ہے
شام آ رہا ہے
بھائی کا سر جہاں تھا بی بی وہاں پہ آئی
بولی یہ سر جھکا کے کرنا دعائیں بھائی
زینب کی کربلا کا آغاز ہو رہا ہے
شام آ رہا ہے۔۔۔
امّت کھڑی ہوئی ہے جھولی میں لے کے پتھر
زنجیر که رہی ہے چلنا سنبھل سنبھل کر
اہل حرم کا مقتل کچھ دور رہ گیا ہے
شام آ رہا ہے۔۔۔
نیزے پہ سر جواں کا دیکھا تو ماں یہ بولی
اکبر یہ التجا ہے تجھ سے غریب ماں کی
چادر کہیں سے لا دے زینب کا سر کھلا ہے
شام آ رہا ہے۔۔۔
اعلان ہو رہا ہے جلدی بلایا جائے
زہراؑ کی بیٹیوں کو پیدل چلایا جائے
کوفے کی منزلوں سے یہ سخت مرحلہ ہے
شام آ رہا ہے۔۔۔
زینب نے جب یہ پوچھا یہ کونسی ہے بستی
سجاد میرے دل پر لگتی ہے غم کی برچھی
ہاۓ دبی زبان سے بیمار نے کہا ہے
شام آ رہا ہے۔۔۔
یہ فضل سے رقیہ کہتی ہے اے بھتیجے
زینب کی میں ہوں ضامن باقر تیرے حوالے
دونوں نے کام اپنا تقسیم کر لیا ہے
شام آ رہا ہے۔۔۔
زینب کے گرد بہنیں پردہ بنا رہی ہیں
خود بے ردا ہیں لیکن اسکو چھپا رہی ہیں
اکبر ستم گروں نے اعلان کر دیا ہے
شام آ رہا ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.