Bas itna batado
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Return to Madina recited by Shadman Raza
جب قافلہ پہنچا تھا مدینے کے ذرا پاس
مقتل میں ہوا کیا یہ سنا اس نے بصد یاس
کٹتا تھا جگر دل میں ندامت کا تھا احساس
ہر ایک سے یہی پوچھتی تھی مادر عباس
جب گردن شبیر پہ خنجر وہ رواں تھا
بس اتنا بتا دو میرا عباس کہاں تھا
زہرا کا پسر جان نبی سید والی
اکبر کے کلیجے سے سناں کیسے نکالی
جب خاک پہ دم توڑتا لیلیٰ کا جواں تھا
بس اتنا بتا دو۔۔۔
میدان میں بے شیر کو جب لائے تھے شبیر
ننھے علی اصغر کی جو گردن پہ لگا تیر
جب باپ کے ہاتھوں پہ پسر تشنہ دہاں تھا
بس اتنا بتا دو۔۔۔
آقا میرا میدان میں کیوں رہ گیا تنہا
ہاں دودھ نہ بخشوں گی میں یہ کیا کیا بیٹا
زہرا کا پسر خاک پہ جب گریہ کناں تھا
بس اتنا بتا دو۔۔۔
جب بی بیاں جلتے ہوئے خیموں کے تھی اندر
جب زینب دلگیر کی چھینی گئی چادر
جب گردن بیمار میں وہ طوق گراں تھا
بس اتنا بتا دو۔۔۔
عابد کو لئے پھرتی تھی جب زینب مضطر
جب آگ لگائی گئی چھینا گیا بستر
پھیلا ہوا جب شام غریباں کا دھواں تھا
بس اتنا بتا دو۔۔۔
جب شام غریباں میں بھی پیاسے رہے بچے
جب دختر شبیر کے لگتے تھے طمانچے
جب اس کا جگر کرب یتیمی سے تپاں تھا
بس اتنا بتا دو۔۔۔
زینب نے کہا اس کو وفا کا تھا بہت پاس
جب ذبح ہوئے بھائی تو زندہ نہ تھے عباس
بن ہاتھوں کے تھا غیرت الیاس کا لاشہ
ساحل پہ تڑپتا رہا عباس کا لاشہ
یہ سن کے کیا شکر مگر پھر بھی ہے احساس
اب تک یہ قمر پوچھتی ہے مادر عباس
جب گردن شبیر پہ خنجر وہ رواں تھا
بس اتنا بتا دو۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.