Shaam aa raha hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Hamid Baltistani
سادات بے ردا ہیں عابد کا سر جھکا ہے
شام آرہا ہے
سارا لہو بدن کا آنکھوں میں آگیا ہے
---شام آرہا ہے
بھائی کا سر جہاں تھا بی بی وہاں پہ آئی
بولی یہ سر جھکا کے کرنا دعائیں بھائی
زینب کی کربلا کا آغاز ہو رہا ہے
---شام آرہا ہے
امّت کھڑی ہوئی ہے جھولی میں لے کے پتھر
زنجیر که رہی ہے چلنا سنبھل سنبھل کر
اہل حرم کا مقتل کچھ دور رہ گیا ہے
---شام آرہا ہے
نیزے پہ سر جواں کا دیکھا تو ماں یہ بولی
اکبر یہ التجا ہے تجھ سے غریب ماں کی
چادر کہیں سے لا دے زینب کا سر کھلا ہے
---شام آرہا ہے
اعلان ہو رہا ہے جلدی بلایا جائے
زہرا کی بیٹیوں کو پیدل چلایا جائے
کوفے کی منزلوں سے یہ سخت مرحلہ ہے
---شام آرہا ہے
کوئی نہیں سنے گا فریاد بے کسوں کی
آل نبی پہ ہوگی برسات پتھروں کی
کس طرح آنکھیں کھولے عباس جانتا ہے
---شام آرہا ہے
زینب نے جب یہ پوچھا یہ کونسی ہے بستی
سجاد میرے دل پر لگتی ہے غم کی برچھی
ہاۓ دبی زبان سے بیمار نے کہا ہے
---شام آرہا ہے
یہ فضل سے رقیہ کہتی ہے اے بھتیجے
زینب کی میں ہوں ضامن باقر تیرے حوالے
دونوں نے کام اپنا تقسیم کر لیا ہے
---شام آرہا ہے
زینب کے گرد بہنیں پردہ بنا رہی ہیں
خود بے ردا ہیں لیکن اسکو چھپا رہی ہیں
اکبر ستم گروں نے اعلان کر دیا ہے
---شام آرہا ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.