Arab ke jangal se
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Return to Madina recited by Alamdar Razvi
عرب کے جنگل سے جا رہا ہے
لٹا ہوا قافلہ کسی کا
بتاتی ہے صاف یہ اداسی
کہ صاف گھر ہو گیا کس کا
سینہ سے زخم ہے پشت و پہلو
جھکی ہے گردن رواں ہے آنسوں
بندھے ہوے ہیں کسی کے بازو
کسا ہوا ہےگلا کسی کا
عرب کے جنگل سے۔۔۔
تمہیں بتاؤ سیاہ کاروں
تمہیں بتاؤ ستم شعاروں
یہ چھ مہینے کی جان یارو
بھلا بگاڑے گا کیا کسی کا
عرب کے جنگل سے۔۔۔
یہ در پےء جو ہے زمانہ
رکا قدم مل گیا بہانا
وہ آی آواز تعزیانہ
وہ جسم شق ہو گیا کسی کا
عرب کے جنگل سے۔۔۔
بلند نیزوں پہ چند سر ہیں
ستارے ہیں شمس ہے قمر ہے
کسی کے گیسوں لہو میں تر ہے
تو پیاس سے منہ کھلا کسی کا
عرب کے جنگل سے۔۔۔
سوار شہزادیاں ہیں ساری
نہ ہے کجاوا نہ ہے عماری
ہے ضعف سے غش کسی پہ طاری
تو منہ ہے اترا ہوا کسی کا
عرب کے جنگل سے۔۔۔
غیور بڑھ کر زرا خبر لے
یہ کون بھرتی ہے سرد آہیں
یقیناً ان کشتگانِ غم میں
جوان بیٹا بھی تھا کسی کا
عرب کے جنگل سے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.