Sar zainabe hazeen
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Mustafa Ali
سر زینب حزیں کا بازار میں کھلا ہے
اس غم سے سر جری کا نیزے سے گر رہا ہے
جن بازوؤں کا بوسہ اکثر لیا علی نے
باندھی رسن انہیں میں بعد جری شقی نے
زہرا کی بیٹیوں پر غربت کی انتہا ہے
سر زینب حزیں کا۔۔۔
نیزوں سے جب اتارا چادر کو ظالموں نے
بالوں سے منہ چھپایا زہرا کی بیٹیوں نے
جو بانیء ردا تھی وہ آج بے ردا ہے
سر زینب حزیں کا۔۔۔
اٹھارہ بھائیوں کے حلقے میں تھی جو ہر پل
اور ساے میں الم کے رہتی تھی جو مسلسل
چلتی ہے ننگے پا وہ پرخار راستہ ہے
سر زینب حزیں کا۔۔۔
اک وقت تھا کہ شاہی کوفے میں کر رہی تھی
اک وقت آج یہ ہے آی ہے بنکے قیدی
پہچان لے نہ کوئی یہ بنت مرتظی ہے
سر زینب حزیں کا۔۔۔
سجاد محوِ غم ہےلاچار ہے حزیں ہے
سر پر جو بی بیوں کے دستار تک نہیں ہے
اس کرب میں وہ آنکھوں سے خوں بہا رہا ہے
سر زینب حزیں کا۔۔۔
رخسار پہ بہن کے جس دم لگے طمانچے
رخ کر کے سوے دریا عابد پکار اٹھے
آؤ مدد کو عمو ہم پر ستم سوا ہے
سر زینب حزیں کا۔۔۔
چادر نہیں ہے سر پہ اس غم میں مر نہ جاے
چھوٹے ہیں اس کے گیسوں کیسے وہ رخ چھپائے
ریتی سے اپنا چہرہ اس نے چھپا لیا ہے
سر زینب حزیں کا۔۔۔
آصف تیرے قلم سے اب بھی ہے آشک جاری
زیشان بھی مسلسل کرتا ہے آہ و زاری
اس غم میں منتظر بھی پردے میں رو رہا ہے
سر زینب حزیں کا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.