Aaj hai khafile ki
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Return to Madina recited by Mir Mohsin Ali
آج ہے قافلے کی قافلہ سالار بہن
اٹھو بھیا کے وطن جاتی ہے لاچار بہن
شمر نے مارا سکینہ تو طمانچے بھیا
سہم کے خوف سے وہ رونے نہ پای بھیا
غیض سے کانپ گیء آپ کی لاچار بہن
اٹھو بھیا کے وطن۔۔۔
جس گھڑی رنج و بلا سے میں سوے شام گیء
بالوں سے منہ کو چھپای تھی نہ کچھ دیکھ سکی
اس لےء کر نہ سکی بھای کا دیدار بہن
اٹھو بھیا کے وطن۔۔۔
ہاے کرتا تھا دندان سے وہ بے ادبی
آپ کے سر سے اترا کے پھراتا تھا چھڑی
ہاتھ ملتی تھی تڑپ کر تیری لاچار بہن
اٹھو بھیا کے وطن۔۔۔
در بدر ظالموں نے بھیا پھرایا ہم کو
چھین کر سر سے ردا قیدی بنایا ہم کو
ننگے سر دیکھ چکی شام کا بازار بہن
اٹھو بھیا کے وطن۔۔۔
ہم کو کفار کی جانب سے نوازش یہ ہوی
خوں بہا لے کے خطا بخش کی خواہش یہ ہوی
کس طرح کرتی قبول آپ کی غم خوار بہن
اٹھو بھیا کے وطن۔۔۔
بھیا میں آپ کو دو گز بھی کفن دے نہ سکی
چلتے چلتے بھی تمہیں پرسہ بہن دے نہ سکی
کس قدر دشت میں مجبور تھی لاچار بہن
اٹھو بھیا کے وطن۔۔۔
دے کے عباس کو آواز بلا دو بھیا
آ کے تم مجھکو عماری میں بٹھا دو بھیا
تم سے کرتی ہے یہ منت تیری غم خوار بہن
اٹھو بھیا کے وطن۔۔۔
سو چکے نیند سے اٹھو میرے بھیا اٹھو
اپنی صغرا کے لئے کوی نشانی دے دو
ساتھ ملنے کے لئے کرتی ہے اقرار بہن
اٹھو بھیا کے وطن۔۔۔
خون میں ڈوبا ہوا بے شیر کا کرتہ لے کر
اور سکینہ کا وہ ٹوٹا ہوا بندا لے کر
نانا کے روضے پہ چلنے کو ہے تیار بہن
اٹھو بھیا کے وطن۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.