Sughra hafiz khuda
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Safre Imam Hussain recited by Mir Rehan Abbas
جانے لگا مدینے سے جب شہ کا قافلہ
صغریٰ کے پاس آ کے یہ مولا نے تب کہا
اے میری لاڈلی تیرا حافظ ہے اب خدا
سر کو کٹانے میں جاتا ہوں میں سوے نینوا
ہم جا رہے ہیں صغرا حافظ خدا تمہارا
رکھنا خیال اپنا حافظ خدا تمہارا
رو کر حسین بولے جب یاد آے میری
مرقد پہ نانا جاں کے جانا تو میری بیٹی
تجھکو سکوں ملے گا حافظ خدا تمہارا
ہم جا رہے ہیں صغرا۔۔۔
کربل کی سر زمیں پہ میرا گلا کٹے گا
تیرے پدر کو کوئی ہاے کفن نہ دے گا
یہ ظلم مجھ پہ ہو گا حافظ خدا تمہارا
ہم جا رہے ہیں صغرا۔۔۔
تجھکو سناؤں صغرا کربل کی میں کہانی
آل نبی پہ ہوگا مقتل میں بند پانی
پیاسا رہے گا کنبہ حافظ خدا تمہارا
ہم جا رہے ہیں صغرا۔۔۔
حسرت ہر ایک دل کی بس آج ہی منا لوں
اکبر کو اپنے دولہا بیٹا ابھی بنا لوں
بھیا نہ پھر ملے گا حافظ خدا تمہارا
ہم جا رہے ہیں صغرا۔۔۔
واپس کبھی نہ ہاے آے گا تیرا اکبر
گردن پہ تیر کھا کر پیاسا مرے گا اصغر
نیزے پہ سر رہے گا حافظ خدا تمہارا
ہم جا رہے ہیں صغرا۔۔۔
تیرے چچا کے رن میں کٹ جایینگے جو شانے
بچے سبھی حرم کے ہاے رہیں گے پیاسے
یہ بھی ستم ہے ہونا حافظ خدا تمہارا
ہم جا رہے ہیں صغرا۔۔۔
چھن جاے گی رداییں قیدی بنے گی عطرت
حالت پہ بکسوں کی روے گی ہاے غربت
پھیکیں گے کوئی صدقہ حافظ خدا تمہارا
ہم جا رہے ہیں صغرا۔۔۔
ریحان کیا پڑھوں میں اک باپ کی وہ رخصت
کیسے لکھے گا دانش دونوں کے دل کی حالت
روتے تھے کہہ کے مولا حافظ خدا تمہارا
ہم جا رہے ہیں صغرا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.