Jab karbala ki simt
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Safre Imam Hussain recited by Sachay Bhai
جب کربلا کی سمت بڑھا حق کا رہنما
کچھ آگیا خیال جو ماں کے مزار کا
آیا سوۓ بقیع وہ زہرا کا لاڈلا
رخسار رکھ کے صدرِ لحد پر یہ دی صدا
چھٹتا ھے اب مدینہ میرے دل کو تھام لو
اماں غریب بیٹے کا آخر سلام لو
جب کربلا کی سمت۔۔۔
اماں تمہارےلال سے چھٹتا ہے آج گھر
اماں تمہارےلال سے برگشتہ ہر نظر
اماں تمہارےلال کا دشمن ہے ہر بشر
اماں تمہارےلال کا ہے آخری سفر
صحرا میں دل کے ٹکڑوں کی بستی بساۓ گا
اماں حسین اب نہ مدینے میں آۓ گا
جب کربلا کی سمت۔۔۔
اماں دعا کرو کے میں ثابت قدم رہوں
دنیا خلاف ہو پہ ہراساں ذرا نہ ہوں
ہر لمحہ مسکراکے ستم پر ستم سہوں
نظروں کے سامنے جو لٹے گھر نہ کچھ کہوں
اماں یہ آنکھ روئے نہ اکبر کے واسطے
رعشہ نہ آئے ہاتھوں میں اصغر کے واسطے
جب کربلا کی سمت۔۔۔
اماں میرے ارادوں کو آئے نہ کچھ زوال
جس وقت پائمال ہو بھیا حسن کا لال
اماں نہ کانپ اٹھیں یہ قدم بیڑھ کی مثال
گھوڑے سے جب گرایا میری خواہر کے نونہال
اماں کمر جھکے نہ تمہارے فدائی کی
لاؤں جو لاش اٹھا کے برابر کے بھائی کی
جب کربلا کی سمت۔۔۔
ماں سے یہ کہہ رہا تھا ابھی ماں کا لاڈلا
آواز آٰئی قبر سے اے میرے
مہ لقا
صدقے تیری مصیبت و غربت کے فاطمہ
بس اے حسین بس کے ہلا عرشِ کبریا
تڑپے ابالحسن بھی دلِ بے قرار سے
بیٹا رسولِ حق نکل آۓ مزار سے
جب کربلا کی سمت۔۔۔
اے میرے لال تیرے ارادوں کے میں نثار
یہ آخری سفر ہے میرے دل کا اضطرار
کیسے کہوں جو دل پہ گزرتی ہے گل ازار
ھوتا ہے بے چراغ میرے باپ کا مزار
جو تجھ پہ ظلم ہونگے یہ دکھیا اٹھاۓ گی
بیٹا یہ غم نصیب تیرے ساتھ جاۓ گی
جب کربلا کی سمت۔۔۔
آنسو بہاؤنگی تیرے رنج و الم کے ساتھ
آنکھیں بچھاؤنگی تیرے نقشِ قدم کے ساتھ
زہرا نڈھال ہوگی ہر اک تازہ غم کے ساتھ
میرا کلیجہ نکلے گا پوتے کے دم کے ساتھ
گھبرا نہ میرے لال ہر اک دکھ بٹاؤنگی
میں تیرے ساتھ لاشۂ اکبر اٹھاؤنگی
جب کربلا کی سمت۔۔۔
جاۓ گا تو جو نہر پہ بھائی کی لاش پر
میں تیرے ساتھ ساتھ چلوں گی برہنہ سر
بیٹا حسین کیا تجھے اس کی نہیں خبر
عباس تیرا بھائی ہے میرا دل و جگر
تو لاش اٹھائے گا تو صفِ غم بچھاؤنگی
میں گود میں کٹے ھوۓ ہاتھوں کو لاؤنگی
جب کربلا کی سمت۔۔۔
بیٹا حسن کے لال کی خاطر یہ کیا ملال
میرے حسن نے تجھ پہ نچھاور کیا وہ لال
فدیے کے واسطے کوئی کرتا ہے یوں ملال
بیٹا میں اس گھڑی بھی رہونگی شریکِ حال
غم ھے قدم اٹھا کے دلِ پاش پاش کے
ٹکڑے چنوں گی رن میں مَیں قاسم کی لاش کے
جب کربلا کی سمت۔۔۔
ھاں میرے لاڈلے میری زینب سے ھوشیار
بے پردہ ھونہ جاۓ کہیں میری پردہ دار
محمل کے ساتھ ساتھ ہوں عباسِ زیں وقار
تاکید ھو یہ اکبر مہرو کو بار بار
آمادہ ہر قدم پہ رہے پیشواٰئ کو
تکلیف ھو نہ راہ میں زہرا کی جائی کو
جب کربلا کی سمت۔۔۔
جا مرقدِ رسول پہ اے میرے لالہ فام
لازم ہے نانا جان کو بھی آخری سلام
دینا میری طرف سے یہ حسرت بھرا پیام
ممکن نہیں مدینے میں زہرا کرے قیام
تم بھی لہو میں اپنا چمن دیکھنے چلو
زینب کے بازوؤں میں رسن دیکھنے چلو
جب کربلا کی سمت۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.