Sar karbobala
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Nadeem Sarwar
نہ محمل ہے نہ ہودج نہ کجاوا نہ عماری
اس شان سے جاتی ہے سوے شام سواری
زخمی ہے بدن کوڑوں سے اور خون ہے جاری
عباس زرا دیکھو تو حالت کو ہماری
کس حال سے لے جاتے ہیں ہم کو یہ ستمگار
وارث نہیں مونس نہیں کوئی نہیں غم خوار
سر کربوبلا زینب دلگیر کرے گی
اس دشت بیابان کی تعمیر کرے گی
پیغام شہ والا کی تشہیر کرے گی
ظالم کی ہر ایک گام پہ تہکھیر کرے گی
طوفان جفا میں غم شبیر کرے گی
---سر کربوبلا زینب
دل تڑپیں گے مظلومیء سرور کے اثر سے
آیگی صدا رونے کی دیواروں اور در سے
گزریں گے اسیرانِ بلا ہوکے جدھر سے
آیگی صدا ہاے حسینا ہر ایک کے گھر سے
جب سینہ زنی دختر شبیر کرے گی
---سر کربوبلا زینب
پھٹ جائیں گے صحراؤں کے جنگل کے کلیجے
تڑپیں گے غم و درد سے اس فرش کے ٹپکے
تا حشر نہ بھولیں گے جنہیں راہ میں رستے
چوست شمع راہوں میں جلادوں گی سفر کے
پابند رسن رہ کے بھی تدبیر کرے گی
---سر کربوبلا زینب
چونک اٹھیں گے راتوں کو جفا جو بھی الم سے
ہو جائیں گے شق قلب و جگر نالہ و غم سے
اٹھے گی صدا گریہء و ماتم جو حرم سے
برسے گا لہو سن کے ہر اک دیدہء نم سے
شب میں جو بکا مادر شبیر کرے گی
---سر کربوبلا زینب
سر ننگے ہیں یہ بیبیاں اے شام کے لوگوں
کچھ شرم و حیا چاہیے اسطرح نہ دیکھو
لا کر انہیں کچھ ظاہری چادر تو اڑھادو
یہ لال نبی ہیں انہیں مجبور نہ سمجھو
پردہ بہ خدا چادر تطہیر کرے گی
---سر کربوبلا زینب
لکھتی ہے یہ تاریخ انیس جگر افگار
زہرا ہے غم شاہ میں بس اتنی طلبگار
ماتم کرے گریہ کرے سرور کے عزادار
ہر مجلس شبیر میں کرتی ہیں یہ اظہار
تاحشر بکا مادر شبیر کرے گی
---سر کربوبلا زینب
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.