Tera sehra na dekha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Ali Mohd. Sultanpuri
جواں کی لاش پہ یہ بین کرتی رہ گیء مادر
تیرا سہرا نہ دیکھا تیرا سہرا نہ دیکھا
میری آنکھوں کے تارے اے میرے پیارے علی اکبر
تیرا سہرا نہ دیکھا تیرا سہرا نہ دیکھا
دل مادر میں اٹھارہ برس سے یہ تمنا تھی
میں اپنے ہاتھوں سے ایک دن تجھے دولہا بناؤں گی
تیری دلہن کو میں اپنے کلیجے سے لگاؤں گی
جو منت مانی ہے میں نے وہ سب منت بڑھاؤں گی
مگر کیا تھی خبر روؤں گی میں تیرے جنازے پر
تیرا سہرا نہ دیکھا۔۔۔
بڑے ارمان تھے دل میں بہت کچھ میں نے سوچا تھا
بلاییں لے کے آنکھوں سے لگاؤں گی تیرا سہرا
تیری بارات جب گھر سے چلے گی اے میرے بیٹا
تو میں عباس سے کہہ دونگی پرچم کا کرے سایہ
مگر نہ جانے کس نے بد نظر ڈالی تیرے اوپر
تیرا سہرا نہ دیکھا۔۔۔
مجھے پردیس میں تقدیر نے یہ دن بھی دکھلایا
میں زندہ رہ گیء اور مر گیا کڑیل جواں بیٹا
میرے آنکھوں سے اے اکبر دکھای کچھ نہیں دیتا
میں دیکھوں بھی تو کیسے دیکھوں تیرا چاند سا چہرہ
ارے ٹوٹا ہے غم کا آسماں دکھیاری مادر پر
تیرا سہرا نہ دیکھا۔۔۔
کلیجے پھٹ گیا مادر کا اس دم اے میرے جانی
سنا جس دم کی تم کو مرتے دم بھی نہ ملا پانی
بڑے بے رحم ہے کربوبلا میں ظلم کے بانی
کسی نے ہاے تصویر محمد بھی نہ پہچانی
چلایا ظالموں نے ہاے میرے قلب پہ خنجر
تیرا سہرا نہ دیکھا۔۔۔
جواں فرزند سے ماں باپ کو خالق نہ چھڑواے
یہ منزل وہ ہے کی دشمن کی آنکھوں میں بھی اشک آے
کسی کا نوجواں بیٹا سناں سینے پہ نہ کھاے
ضعیفی میں جواں بیٹے کی میت باپ نہ لاے
ہمیں قسمت نے دکھلایا قیامت خیز یہ منظر
تیرا سہرا نہ دیکھا۔۔۔
پدر کی بیکسی اے لال دیکھو تو زرا اٹھ کر
جھکائے سر بلک کر رو رہے ہیں سبط پیغمبر
سہارا کون دے کر نہیں اب مونس و یاور
چچا عباس بھی ہوتے تو بازو تھامتے آ کر
تیرے بابا بہت روتے ہیں اے بیٹا یہی کہہ کر
تیرا سہرا نہ دیکھا۔۔۔
جواں کی لاش پہ وایض یہی مادر کا نوحہ تھا
مجھے پردیس میں لا کر میری تقدیر نے لوٹا
میرے ارمان مٹی میں ملے اجڑی میری دنیا
تیری شادی کی حسرت تھی مگر دیکھا تیرا لاشہ
یہ غم سہنے سے پہلے مر گیء ہوتی تیری مادر
تیرا سہرا نہ دیکھا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.