Zere qadam hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Sachay Bhai
زیرِ قدم ہے قبر کی منزل
آگے حشر کا میداں ہے
زیست کے لہرو سوچ کے بڑھنا
ہاتھ میں کس کا دامن ہے
کہتے تھے انصارِ شاہِ دیں آج ہے دن قُربانی کا
جس نے لگا دی جان کی بازی ہاتھ اُسی کے میداں ہے
زیرِ قدم ہے۔۔۔
صرف گلا بچے کا نہیں ہے تیرا نشانہ اے ظالم
تیر چلانے والے سُن لے تیر کی زد پہ قرآں ہے
زیرِ قدم ہے۔۔۔
شش ماہے کی قبر بنا کر آنکھ میں آنسو آ ہی گئے
ضبط کی کوئی حد ہوتی ہے انساں آخر انساں ہے
زیرِ قدم ہے۔۔۔
کانپ رہا ہے اُس کا کلیجہ تیر ہے جس کی چُٹکی میں
ہونٹوں پر ہے اُس کے تبسم جس کے گلے میں پیکا ہے
زیرِ قدم ہے۔۔۔
کہتی تھی بانو اے میرے اصغر توں جو نہیں کیا چین آئے
جھولا خالی گودی اُجڑی گھر سُونا دل ویراں ہے
زیرِ قدم ہے۔۔۔
آہ یہ مجبوری کا عالم اُف یہ اسیری یہ غُربت
سر پہ ردا خواہر کے نہیں ہے لاشِ برادر عُریاں ہے
زیرِ قدم ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.