Ye kisne kaha matam
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Izzat Lakhnavi
صدائے ماتم شبیر آج تک نہ دبی
غرور ٹوٹ گیا کس نے کب سنا ہوگا
یہ کس نے کہا ماتم شبیر نہ ہوگا
ہے خواب جو شرمندہء تعبیر نہ ہوگا
یہ کس نے کہا ماتم۔۔۔
جو بغض ہے شہ سے اسے تم لاکھ چھپاؤ
کیا نامۂ اعمال میں تحریر نہ ہوگا
یہ کس نے کہا ماتم۔۔۔
جو بیعت باطل کے لئے سر کو جھکا دے
وہ لاکھ پڑے چہرۂ تطہیر نہ ہوگا
یہ کس نے کہا ماتم۔۔۔
وہ قد نہ رہے نام ہے اللّٰہ کا باقی
جو کہتے تھے اب نعرۂ تکبیر نہ ہوگا
یہ کس نے کہا ماتم۔۔۔
جس جس نے دکھایا ہے دل فاطمہ زہرا
کیا حشر میں وہ لایق تازیر نہ ہوگا
یہ کس نے کہا ماتم۔۔۔
جاتے ہیں تو شبیر کے ہمراہ ہے اصغر
لوٹیں گے تو آغوش میں بے شیر نہ ہوگا
یہ کس نے کہا ماتم۔۔۔
جس طرح پھراے گےء در در حرمِ شاہ
اس وجہ سے یہ ظاہر توقیر نہ ہوگا
یہ کس نے کہا ماتم۔۔۔
بیمار کو غش آ گیا زندان بلا میں
کچھ دیر تو اب نوحہء زنجیر نہ ہوگا
یہ کس نے کہا ماتم۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.