Sajjad se poocho
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Irfan Haider
زینب سے جو پوچھی گئی روداد سفر کی
دل تھام کے کہنے لگی یہ زینبِ مضطر
کیا بیت گئی شام کے بازار میں لوگو
سجاد سے پوچھو
مفہوم اسیری کا کھُلا شام میں جا کر
جب نوحہ کُناں نوکِ سِناں پر ہوئے سرور
بھیّا نے جو نوحہ کیا یثرب کے مکینو
سجاد سے پوچھو
کیا بیت گئی۔۔۔
محفوظ ہیں آنکھوں میں اذیّت کے وہ لمحے
سادات کھُلے سر تھے تماشائی کھڑے تھے
اُس درد کی شدت کو اگر پوچھنا چاہو
سجاد سے پوچھو
کیا بیت گئی۔۔۔
تھے ہاتھ پسِ پُشت بندھے سر میں پڑی خاک
صدموں سے کلیجے تھے گریباں کی طرح چاک
اے لوگو ملے زخم جو اُن راہوں میں ہم کو
سجاد سے پوچھو
کیا بیت گئی۔۔۔
جب گرتا تھا عباس کا سر نوکِ سِناں سے
کیا اس کا سبب ہے جو لعیں پوچھنے آتے
میں کہتی تھی مجھ سے نہیں یہ بات لعینو
سجاد سے پوچھو
کیا بیت گئی۔۔۔
پتھر کہیں برسائے گئے اہلِ حرم پر
باغی کبھی کہلائی گئی آلِ پیعمبر
افسوس یہی ہے کے مسلماں تھے سبھی تو
سجاد سے پوچھو
کیا بیت گئی۔۔۔
جب گر گئی ناقے سے میرے بھائی کی دُکتر
وہ نیزہ رُکا جس پہ رکھا تھا سرِ سرور
اُس دم جو اذیّت ہوئی اولادِ نبی پر
سجاد سے پوچھو
کیا بیت گئی۔۔۔
جب مل گئی زنداں سے اسیروں کو رہائی
گھر جائے کہ نہ جائے کہو فاطمہ جائی
رو کر کہا زینب نے کے مجھ سے نہیںبانو
سجاد سے پوچھو
کیا بیت گئی۔۔۔
جب مظہر و عرفان کیا صغریٰ نے نوحہ
زینب کی ضعیفی کا سبب ماں سے جو پوچھا
ماں کہنے لگی رو کے کلیجے کو سنبھالو
سجاد سے پوچھو
کیا بیت گئی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.