Wo gul sadqa hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Faazil Lakhnavi
وہ گل صدقہ ہے تیرا یہ کلی تیری بدولت ہے
بہار باغ ایمان اے علی تیری بدولت ہے
وہ گل صدقہ ہے تیرا۔۔۔
تیرے حملوں نے سقاے حرم دریا الٹ ڈالا
سپاہ شام کی شرمندگی تیری بدولت ہے
وہ گل صدقہ ہے تیرا۔۔۔
محمد کی زباں خیبر میں یہ تصدیق کرتی ہے
نزولِ آیت ناد علی تیری بدولت ہے
وہ گل صدقہ ہے تیرا۔۔۔
جو بچا کر بھاگ نکلے نہر سے مڑ مڑ کے کہتے تھے
علی کے شہر اب خود زندگی تیری بدولت ہے
وہ گل صدقہ ہے تیرا۔۔۔
علی گیارہ اماموں کے ہیں تیرے نور میں جلوے
نبی کے دین کی بارہ دری تیری بدولت ہے
وہ گل صدقہ ہے تیرا۔۔۔
طوافِ خانۂ کعبہ میں موسی روز ملتے ہے
حرم میں طور کی جلوہ گری تیری بدولت ہے
وہ گل صدقہ ہے تیرا۔۔۔
سمجھتا کون کافر کون ہے اور کون مومن ہے
یہ فرق کفر و دین تیغ علی تیری بدولت ہے
وہ گل صدقہ ہے تیرا۔۔۔
حسین ابنِ علی و فاطمہ کے چاند کیا کہنا
اندھیری رات میں یہ چاندنی تیری بدولت ہے
وہ گل صدقہ ہے تیرا۔۔۔
بچھاے بوریہ بیٹھا ہے تو تخت خلافت پر
شہنشاہی نبی یہ سادگی تیری بدولت ہے
وہ گل صدقہ ہے تیرا۔۔۔
بلایں لے لے سالک آ ادھر اے الفت حیدر
یہ جنت اور یہ جام کوثری تیری بدولت ہے
وہ گل صدقہ ہے تیرا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.