Thi ishqe ali may
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Faazil Lakhnavi
تھی عشق علی میں رسن و دار سے باتیں
کیا کرتی اجل میثم تمار سے باتیں
تھی عشق علی میں۔۔۔
یہ ناصر شبیر ہے پیچھے نہ ہٹیں گے
فوجیں نہ کریں آہنی دیوار سے باتیں
تھی عشق علی میں۔۔۔
ہر جنگ میں تلوار تو خاموش رہی ہے
خیبر میں ہوی حیدر کرّار سے باتیں
تھی عشق علی میں۔۔۔
اللّٰہ کی مرضی کے لئے شاہ شہیداں
اب کون کرے گا تیرے دیدار سے باتیں
تھی عشق علی میں۔۔۔
اس تیزی سے عباس سوے نہر چلے ہیں
کرتی ہے ہوا گھوڑے کی رفتار سے باتیں
تھی عشق علی میں۔۔۔
عباس کا حملہ ہے کہ حملہ ہے علی کا
کرتی ہے اجل لشکر کفار سے باتیں
تھی عشق علی میں۔۔۔
تلوار تو عباس کا منہ دیکھ رہی ہے
عباس بھی کرتے نہیں تلوار سے باتیں
تھی عشق علی میں۔۔۔
زندہ ہوا مر مر کے کیء بار نصیری
بھولی نہ مگر حیدر کرّار سے باتیں
تھی عشق علی میں۔۔۔
کٹتی ہے زباں ہوتی ہے سچای پہ مہریں
حیدر کی سنو میثم تمار سے باتیں
تھی عشق علی میں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.