Tashnalabi ki kitab
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Raza Ali Khan
کھلی ہے تشنہ لبی کی کتاب پانی میں
وفا دکھا گیء خیبر کا باب پانی میں
جمال حضرتِ عبّاس تیغ و مشک و علم
چمک رہے ہیں کیء آفتاب پانی میں
کھلی ہے تشنہ لبی۔۔۔
سرور پیاسا رہا رہوار پیاسا رہا
اگر چہ بھیگ چکی تھی رکاب پانی میں
کھلی ہے تشنہ لبی۔۔۔
ادھر سبیل لگائی ادھر مہکنے لگے
غمِ حسین کے تازہ گلاب پانی میں
کھلی ہے تشنہ لبی۔۔۔
لب سکینہ سے جو پیاس بن کے ابھرا تھا
سمٹ کے آ گیا وہ اضطراب پانی میں
کھلی ہے تشنہ لبی۔۔۔
اگر حسین نہ ہوتے تو مل گیا ہوتا
تمام کار رسالت مآب پانی میں
کھلی ہے تشنہ لبی۔۔۔
ٹپکنے لگا ہے دل خون ہو کے آنکھوں سے
نہ جانے دیکھتی کیا ہے رباب پانی میں
کھلی ہے تشنہ لبی۔۔۔
بجز شجاع کے عباس نامور ریحان
لکھا ہے کس نے وفا کا نصاب پانی میں
کھلی ہے تشنہ لبی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.