Sab ke lab par
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Afzal Mirza
سب کے لب پر سسکیاں ہیں کربلا سے شام تک
بازوؤں میں رسیاں ہے کربلا سے شام تک
بے ردا سیدانیاں ہے کربلا سے شام تک
سب کے لب پر۔۔۔
اصغر و عباس و اکبر یاد آتے جب یہاں
قافلہ میں رو پڑی ہے چیخ کر سب بی بیاں
ہچکیاں ہی ہچکیاں ہے کربلا سے شام تک
سب کے لب پر۔۔۔
عابد بیمار کی گردن میں ہے طوقِ گراں
اور اس پر تازیانوں سے ہے زخمی ناتواں
پاؤں میں بھی بیڑیاں ہے کربلا سے شام تک
سب کے لب پر۔۔۔
پاؤں میں چھالے پڑے ہیں چور زخموں سے بدن
بیکس و مظلوم عابد بے سہارا بے وطن
ہر قدم دشواریاں ہیں کربلا سے شام تک
سب کے لب پر۔۔۔
ایک بھی اپنا نہیں کوئی یہاں پوچھے جو حال
ظالموں کے خوف سے ہےتشنہ لب بچے نڈھال
پیاس ہے اور سسکیاں ہیں کربلا سے شام تک
سب کے لب پر۔۔۔
ظلم احمد کے گھرانے پر ہوے ہیں بے شمار
چادریں سب کی چھنی ہیں کیا رقیہ کیا رباب
سر جھکائے بی بیاں ہیں کربلا سے شام تک
سب کے لب پر۔۔۔
بیکسوں کا حال کوئی پوچھنے والا نہیں
اب کوئی پردہ نہیں ہے اب کوئی سایہ نہیں
سر کھلے سیدانیاں ہیں کربلا سے شام تک
سب کے لب پر۔۔۔
بچے بچے نے اٹھاے ہیں یہاں رنج و الم
کون ہے کس نے کیا ہے ان غریبوں پر ستم
ہر طرف خاموشیاں ہیں کربلا سے شام تک
سب کے لب پر۔۔۔
نرغہء اعدا میں عطرت ہے شہ مظلوم کی
جس طرف اٹھتی ہے نظریں زینب و کلثوم کی
موت کی پرچھائیاں ہیں کربلا سے شام تک
سب کے لب پر۔۔۔
قافلے کی سرپرستی کر رہی ہے غم گسار
بعد میں عباس کے زینب بنی ہے زمہ دار
اب یہ زمہ داریاں ہیں کربلا سے شام تک
سب کے لب پر۔۔۔
تازیانوں کی صداییں گونجتی ہیں دم بہ دم
زندگی کی سانس لے سکتے نہیں اہلِ حرم
کس قدر پابندیاں ہیں کربلا سے شام تک
سب کے لب پر۔۔۔
کس طرح قرطاس پہ لکھے گا نظمی کا قلم
بیکسی میں تشنہ لب جاگے ہوے ہیں اہلِ حرم
اور شب داریاں ہیں کربلا سے شام تک
سب کے لب پر۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.