Talab ki manzil
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Izzat Lakhnavi
طلب کی منزل مقصود کربلا تک ہے
پھر اس کے بعد نظر عرش کبریا تک ہے
وہی عمل وہی فکر و نظر وہی انداز
نبی کے خوں کا اثر شاہ نینوا تک ہے
طلب کی منزل۔۔۔
خیاس کیجیےُ وہ کیا ہوگا ہر ایک عمل جس کا
بلندیوں کے تصور کی انتہا تک ہے
طلب کی منزل۔۔۔
رسول پیک خدا ہے حسین پیک رسول
خدا سے بات چلی تھی خدا نما تک ہے
طلب کی منزل۔۔۔
وہ دیکھو شکریہ افسانہء عروجِ بشر
لکیر خون کی کعبے سے کربلا تک ہے
طلب کی منزل۔۔۔
وہ لوگ داور ماحول کے مقابل ہے
رسائی جن کی فقط خنجر جفا تک ہے
طلب کی منزل۔۔۔
نہ جانے کتنے زمانوں کی منزلوں پہ محیط
سفر مدینے سے صحرائے کربلا تک ہے
طلب کی منزل۔۔۔
رکیں گے باپ کے آنسوں نہ لاش اکبر پر
یہ ضبط گریہ فقط فرست وغا تک ہے
طلب کی منزل۔۔۔
حسین ڈھانپ لو دامن سے گردن اصغر
کہ اب تو اشک فشاں چشمِ حرملہ تک ہے
طلب کی منزل۔۔۔
فشار دے نہ گراہ گو کہ اس رسن میں شقی
بندھا ہوا کسی معصوم کا گلا تک ہے
طلب کی منزل۔۔۔
یزید مال غنیمت دکھا نہ لوگوں کو
کہ اس میں زینب مظلوم کی ردا تک ہے
طلب کی منزل۔۔۔
نقوش پاے محمد تلاش کر عزت
کہ حد فکر مسافر کی رہنما تک ہے
طلب کی منزل۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.