Salami karbala mein
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Raza Ali Khan
سلامی کربلا میں جب ہوے شبیر کے ٹکڑے
اڑے قرآن کے پرزے ہوے تفسیر کے ٹکڑے
ادھر مقتل میں بھای کے گلے پہ تیغ چلتی تھی
ادھر خیمے میں ہوتے تھے دل ہمشیر کے ٹکڑے
سلامی کربلا میں۔۔۔
یہ مظلومی کا عالم تھا گڑے تھے جسم اطہر میں
تبر کے نیمچے کے تیر کے شمشیر کے ٹکڑے
سلامی کربلا میں۔۔۔
زباں سے لفظ اللّٰہ کہہ کے رو دیتے تھے عابد
تمہاری یاد میں اکبر ہوے تکبیر کے ٹکڑے
سلامی کربلا میں۔۔۔
اسیر شام کا یہ حال تھا رنج مسافت میں
کہ گھس کر ہوے تھے پاؤں کی زنجیر کے ٹکڑے
سلامی کربلا میں۔۔۔
میری ہچکی بندھی ذکرِ غم شبیر میں نیر
ہوے ہیں جوش گریہ سے میری تقریر کے ٹکڑے
سلامی کربلا میں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.