Rok sakte nahi sholay
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Sachay Bhai
روک سکتے نہیں شعلے بھی عزاداروں کو
اپنے تلوؤں سے بجھا دیتے ہیں انگاروں کو
کم نسب صاحب کردار نہیں ہو سکتا
یاد کرتے ہیں وفادار وفاداروں کو
روک سکتے نہیں شعلے۔۔۔
دشمنی کرکے شہ دیں سے لعنت کے سوا
کیا ملا تخت و حکومت کے طرفداروں کو
روک سکتے نہیں شعلے۔۔۔
ہم منافق کو منافق ہی کہا کرتے ہیں
تم نے لکھا ہے مسلمان ریاکاروں کو
روک سکتے نہیں شعلے۔۔۔
خود نہیں جھکتا زمانے کو جھکاتا ہے حسین
کون سمجھائے یہ بیعت کے طلبگاروں کو
روک سکتے نہیں شعلے۔۔۔
بخشے جانے کے لئے شہ کی نظر کافی ہے
خلد مل جاتی ہے حر جیسے گنہگاروں کو
روک سکتے نہیں شعلے۔۔۔
بے کفن لاشہء شبیر کو زینب روئی
روئے سجاد بہت شام کے بازاروں کو
روک سکتے نہیں شعلے۔۔۔
غم شبیر محب سب سے بڑی دولت ہے
اور کیا چاہیے اس در سے عزاداروں کو
روک سکتے نہیں شعلے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.