Riwayate mukhtar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Mir Hasan Mir
اے رونے والوں ہے یہ روایات میں لکھا
جس دم قیام کوفے میں مختار نے کیا
جو بھی تھے قاتلان شہیدانِ کربلا
ارے ان میں سے کوئی جب بھی گرفتار ہوتا تھا
حکم امیر پر وہ ستم جب سناتا تھا
مختار سر کو پیٹ کے بس روتا جاتا تھا
اک روز تھا یہ کوفے کے دربار کا سماں
ابنِ نمیر اپنے ستم کرتا تھا بیاں
توڑی تھی میں نے سینۂ اکبر میں خود سناں
اٹھتا تھا شور خیموں سے مارا گیا جواں
ماں جیتے جی گزر گئی زینب بھی مر گئی
اک برچھی میری کتنے جگر پار کر گئی
اک روز کرکے لایا گیا حرملہ اسیر
بولا وہ رن میں میں نے چلائے تھے تین تیر
اس وقت پہلا تیر چلایا تھا اے امیر
بھر کر چلا جو مشک کو مظلوم کا سفیر
مشکیزے سے جو تیر میرا پار ہو گیا
ایسا لگا کہ قتل علمدار ہو گیا
بولا لعیں یہ کرب کا ہے دوسرا مقام
لائے جو اپنی گود میں بے شیر کو امام
سوکھی زباں پھراتا تھا ہونٹوں پہ تشنہ کام
یوں قطع ابنِ زہرا کا میں نے کیا کلام
ہل ہل گیا لحد میں جگر بوتراب کا
ارے مقتل میں نحر ہو گیا بچہ رباب کا
دربار میں یہ سن کے قیامت کا تھا سماں
ارے پیر و جوان روتے تھے لے لے کے ہچکیاں
بولا یہ حرملہ ابھی باقی ہے داستاں
جس دم تیرا حسین تھا تیروں کے درمیاں
وہ تیر آخری تھا جو میں نے چلایا تھا
ارے اس تیر نے حسین کو زیں سے گرایا تھا
پھر شور وا حسینا کا اٹھتا تھا بار بار
جب قید کر کے لایا گیا شمر بد شعار
بولا وہ میرے ہاتھ میں خنجر تھا تیز دھار
جس سے کئے حسین کی گردن پہ تیرہ وار
خنجر رواں تھا حلق پہ ابنِ بتول کے
دل کٹ رہے تھے ساتھ میں
آل رسول کے
اب اس کے بعد میر تکلم بیاں ہو کیا
اے پرسہ داروں سوچنا دل میں کبھی ذرا
کیوں اتنا وقت قاتل شبیر کو لگا
کس واسطے حسین کا کٹتا نہ تھا گلا
محشر میں یہ کھلے گا ستم کائنات پر
خنجر کے کچھ نشان ہے زہرا کے ہاتھ پر
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.