Racha tha akbare
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Izzat Lakhnavi
رچا تھا اکبر مہرو پہ کیا شباب کا رنگ
کہاں ہے گلشن ہنستی میں اس گلاب کا رنگ
رچا تھا اکبر مہرو ۔۔۔
دلوں سے چھٹ نہ سکے گا ابو تراب کا رنگ
یہ ان کا رنگ ہے زہنوں کے انقلاب کا رنگ
رچا تھا اکبر مہرو ۔۔۔
نبی کے بعد بدلتا رہا نقاب کا رنگ
سیاہ بخت تھے بدلا نہ شیخ و شاب کا رنگ
رچا تھا اکبر مہرو ۔۔۔
نہ ڈھونڈ عزیر میں شان و شجاعت حیدر
کہاں تجلیء کوثر کہاں شراب کا رنگ
رچا تھا اکبر مہرو ۔۔۔
علی نے مصلحتن کر لیا تھا جس پہ سکوت
پھر اس کے بعد نہ بدلا کبھی کتاب کا رنگ
رچا تھا اکبر مہرو ۔۔۔
بھٹک رہا تھا زمانہ راہ ذلالت میں
کہیں تھا خواب کا عالم کہیں سراب کا رنگ
رچا تھا اکبر مہرو ۔۔۔
جرات یہ کہتی ہے عباس اور قاسم کی
ہے موج موج میں دریا کی اضطراب کا رنگ
رچا تھا اکبر مہرو ۔۔۔
حبیب و جون کے زخموں سے جتنا خون بہا
فلک پہ اتنا ہی چھایا رہا شباب کا رنگ
رچا تھا اکبر مہرو ۔۔۔
چلی جب اصغر بے شیر پر جو وہ تیر
بدل کے رہ گیا لیکن رخ رباب کا رنگ
رچا تھا اکبر مہرو ۔۔۔
ردا بغیر یہ حالت بر سرِ زینب
برہنہ چہرے کو ڈھانپے رہا حجاب کا رنگ
رچا تھا اکبر مہرو ۔۔۔
یہ کون بول رہا ہے علی ہے یا زینب
وہی زبان وہی لہجہ وہی خطاب کا رنگ
رچا تھا اکبر مہرو ۔۔۔
شقی نے بڑھکے سہارا لیا موءذن کا
جو دیکھا حضرت سجاد کے جواب کا رنگ
رچا تھا اکبر مہرو ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.