Qayamat aur kya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Shahid Baltistani
کیا قیامت سے یہ کم ہے
ہوئی محتاج چادر کی علی کی لاڈلی بیٹی
قیامت اور کیا ہو گی
ہیں کلمہ گو تماشائی جھُکی گردن ہے عابد کی
قیامت اور کیا ہو گی
ہوئی محتاج چادر کی۔۔۔
جہاں سے فاصلہ دربار کا تھا چند قدموں کا
کئی گھنٹوں میں گزری ہے وہاں سے میری شہزادی
قیامت اور کیا ہو گی
ہوئی محتاج چادر کی۔۔۔
سرِ بازار شامی اپنے بچوں سے یہ کہتے تھے
ستائو اس کو سب مل کر بھتیجی ہے یہ غازی کی
قیامت اور کیا ہو گی
ہوئی محتاج چادر کی۔۔۔
سکینہ سیدِ سجاد اور زہرا وہ ہستی ہیں
کہ جن پر وقت سے پہلے ضعیفی ہو گئی طاری
قیامت اور کیا ہو گی
ہوئی محتاج چادر کی۔۔۔
نہ جانیں کس طرح بدلے لیے ہیں شام والوں نے
علی اصغر کے جیسی ہے لحد عباسِ غازی کی
قیامت اور کیا ہو گی
ہوئی محتاج چادر کی۔۔۔
نہ اُٹھ سکتا تھا اور نہ بیٹھ سکتا تھا میرا کاظم
رکوع میں چودہ برسوں تک رہا بغداد کا قیدی
قیامت اور کیا ہو گی
ہوئی محتاج چادر کی۔۔۔
امامِ وقت ہو کر ہائے وہ مظلوم ہے مہدی
لحد مسمار مادر کی ہے اس بیٹے نے خود دیکھی
قیامت اور کیا ہو گی
ہوئی محتاج چادر کی۔۔۔
کٹے بازو لیے عباس کے آئیں گی خود زہرا
میرے مظلوم کی مجلس تکلم حشر میں ہو گی
قیامت اور کیا ہو گی
ہوئی محتاج چادر کی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.