Nafraton ki dhool se
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Tableegh e Imamia
نفرتوں کی دھُول سے چہرہ ہٹا دیکھے گا کون
ہم ہیں مثلِ آئینہ ہم کو بھلا دیکھے گا کون
کربلا سے آج تک آلِ رسولِ پاک پر
جو پسِ پردہ نہیں ہے کربلا دیکھے گا کون
نفرتوں کی دھُول سے۔۔۔
غُربتیں تو دیکھتے ہیں سب گُلوں سے ہار کے
وہ جو ان کے درمیاں ہے فاصلہ دیکھے گا کون
نفرتوں کی دھُول سے۔۔۔
اب نہ قاسم ہیں نہ اکبر ہیں نہ عباسِ جری
دُخترِ شیرِ خُدا کا حوصلہ دیکھے گا کون
نفرتوں کی دھُول سے۔۔۔
چل بسی بالی سکینہ اے علمدارِ حُسین
اب درِ زنداں پہ تیرا راستہ دیکھے گا کون
نفرتوں کی دھُول سے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.