Muntazim kaabe ka
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Ustad Sibte Jafar
منتظم کعبے کا آ پہنچا سفای کے لئے
اے بتوں اب اور گھر ڈھونڈوں خدائی کے لئے
چیرتے ہیں کلہء اجدر کو جھولے میں علی
آج پہلی مشک ہے خیبر خشای کے لئے
منتظم کعبے کا۔۔۔
اے کعبے کی زمیں پر جب سے حیدر کی قدم
جاے سجدہ بن گیء ساری خدای کے لئے
منتظم کعبے کا۔۔۔
مجھ سے جو چاہے لحد میں پوچھے اب منکر نکیر
آ گئے مولا میرے مشکل کشائی کے لئے
منتظم کعبے کا۔۔۔
دو کیا مرحب کو جب حیدر نے تو بولی ذوالفقار
ہاتھ ایسا چاہیے تیغ آزمائی کے لئے
منتظم کعبے کا۔۔۔
اے عروس تیغ قاسم رن میں گھونگھٹ تو اٹھاؤ
سر لےء لاکھوں کھڑے ہیں رونمائی کے لئے
منتظم کعبے کا۔۔۔
کہتے تھے عباس میں سقہ ہوں فوج شاہ کا
خون کے دریا بہا دوں گا ترای کے لئے
منتظم کعبے کا۔۔۔
چونک اٹھتی تھی سکینہ نام سن کر شاہ کا
جب کبھی روتی تھی زینب اپنے بھای کے لئے
منتظم کعبے کا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.