Mohamed ka gharana
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Mesum Abbas
محمد کا گھرانہ محمد کا گھرانہ
ایسے ہوتے ہیں محمد کے گھرانے والے
نوکِ نیزہ پہ بھی قرآن سنانے والے
یہ جفاؤں کے صلے میں بھی دعا دیتے ہے
اپنے قاتل کو بھی شربت یہ پلا دیتے ہیں
اک سجدے سے یہ اسلام بچانے والے
ایسے ہوتے ہیں۔۔۔
اک مشکیزے میں دریا کو اٹھا لیتے ہیں
یہ تو خود پیاس کو دریا کی بجھا دیتے ہیں
پیاسے دریا سے پلٹ کر ہے یہ آنے والے
ایسے ہوتے ہیں۔۔۔
بات ہو حق کی تو یہ موت سے گھبراتے نہیں
علم ہے انکو شہادت ہے شہد سے شیریں
موت کو جینے کے آداب سکھانے والے
ایسے ہوتے ہیں۔۔۔
اپنے ہاتھوں پہ اٹھاتے ہیں کبھی خیبر کو
اور زرا مقتل اکبر کی طرف تو دیکھو
بوڑھے کاندھوں پہ جواں لاش اٹھانے والے
ایسے ہوتے ہیں۔۔۔
دور تاریکیء عالم کو کیا شاہ زمن
نام احمد کے دیےء کر کے دلوں میں روشن
اپنے خیمے کے چراغوں کو بجھانے والے
ایسے ہوتے ہیں۔۔۔
لاشیں پامال ہوی قیدی بنے گھر بھی جلے
پھر بھی پیغام محمد کا مٹاے نہ مٹا
تنہا نو لاکھ کے لشکر کو ہرانے والے
ایسے ہوتے ہیں۔۔۔
ہم نے یوں میثم و سلمان بقا پای ہے
چودہ صدیوں سے جو نسلوں میں عزا آی ہے
نسل در نسل عزادار بنانے والے
ایسے ہوتے ہیں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.