Qaidi bani khadi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Irfan Haider
ہاے ہاے زینب مخدومہ
ہاے ہاے زینب مظلومہ
جب شام غریباں گزر گیء
اور گیارہ محرم آ پہنچی
تھے بارہ گلے اور ایک رسن
کہتی تھی شہ والا کی بہن
میرا گھر لٹا چھنی ہے ردا
بھرا گھر میرا قتیل جفا
ارے ماریہ نینوا تو بتا
بھولے گی کیسے زینب ہاے
بعد از نبی جو کی ہے امت نے مہربانی
قیدی بنی کھڑی ہے کربل میں زہرا ثانی
اٹھارہ برادر کے بہن آج کھلے سر ہے
اس نیزے پہ بھای ہے تو اک نیزے پہ چادر ہے
کسے دے صدا سر کربلا اسیر رسن
اسیر جفا دل غمزدہ نے کیا مرثیہ
بھولے گی کیسے زینب ہاے
آل نبی کی حرمت دنیا نے کیوں نہ جانی
قیدی بنی کھڑی ہے۔۔۔
جو بی بی نہیں نکلی بے پردہ کبھی گھر سے
پردیس میں وہ بی بی چادر کے لئے ترسے
بڑا ہے یہ غم بڑے ہیں ستم
کہ ہے خاک پر نبی کے حرم
ستم بے گھڑی بیکسی تشنگی
بھولے گی کیسے زینب ہاے
اس سمت شادیانے اک سمت نوحہ خوانی
قیدی بنی کھڑی ہے۔۔۔
یہ آل پیمبر کے احسانوں کا بدلہ ہے
بے آس غریبوں کو کذابوں نے لوٹا ہے
دھواں ہی دھواں فغاں ہی فغاں
غریب الوطن ہوے بے اماں
لب علقمہ باوفا رو دیا
بھولے گی کیسے زینب ہاے
جلتے ہوے وہ خیمے پیاسوں کی پاسبانی
قیدی بنی کھڑی ہے۔۔۔
وہ تشنہ دہاں بچے وہ سوکھے ہوے کوزے
اک مشک سکینہ پر دو ہاتھ ہوے صدقے
ادھر با وفا ادھر اشقیاء
گرا خاک پر علم خون بھرا
یتیمہ کوئی کہہ کے یہ رو پڑی
بھولے گی کیسے زینب ہاے
وہ ہاتھ قیمتی تھے یا قیمتی تھا پانی
قیدی بنی کھڑی ہے۔۔۔
بے درد مسلماں سے زینب نے یہی پوچھا
سینہ علی اکبر کا برچھی کے لیےء تھا کیا
نہ دولہا بنا نہ سہرا بندھا
وہ کڑیل جواں ہاے پیاسا گیا
قضا رو پڑی کربلا کہہ اٹھی
بھولے گی کیسے زینب ہاے
برچھی کی وہ انی اور اکبر کے نوجوانی
قیدی بنی کھڑی ہے۔۔۔
بھولے گی نہیں بانو چہرہ علی اصغر کا
شبیر کے ہاتھوں پر ہے لاشہ علی اصغر کا
گلوں کی ردا کوئی فاتحہ میرے لال کو بھلا کیا ملا
بجھی تیر سے تشنگی بس یہی
بھولے گی کیسے زینب ہاے
وہ تیر حرملہ کا اصغر کی بے زبانی
قیدی بنی کھڑی ہے۔۔۔
ٹکڑوں میں بٹا لاشہ اک رات کے دولہا کا
سمٹا ہوا گھٹڑی میں قاسم کا جنازہ تھا
وہ گل پیرہن دل پنجتن
نہ مدفن بنا نہ غسل و کفن
تھی محوِ بکا ایک شب کی دلہن
بھولے گی کیسے زینب ہاے
ٹاپوں کی ضد پہ آی بھای کی اک نشانی
قیدی بنی کھڑی ہے۔۔۔
جب گیارہ محرم کے سورج کی کرن دیکھی
سجاد نے زنجیریں زینب نے رسن دیکھی
چلی ننگے سر رسن پہن کر
بنا بھای کے ہے پہلا سفر
کہا الوداع اے قتیل جفا
بھولے گی کیسے زینب ہاے
تیاریاں سفر کی عابد کی ساربانی
قیدی بنی کھڑی ہے۔۔۔
اختر کی زمیں مظہر نوحے میں ڈھلی ایسے
جب شام گیء زینب عرفانِ عزا بن کے
تھا کیسا سجا دیار جفا
کہیں آیینے کہیں اشقیاء
حرم ننگے سر کہہ کے یہ رو دیےء
بھولے گی کیسے زینب ہاے
بعد از نبی جو کی ہے امت نے مہربانی
قیدی بنی کھڑی ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.