Magar bas hai khayal
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Ali Rizvi Sachay
دبے جب ہم نہ اگلوں سے تو ان کی کیا حقیقت ہے
مگر بس ہے خیال اس کا کہ یہ نانا کی امت ہے
با حمد للہ اپنے بازوؤں میں حق کی قوت ہے
گراں ثقلین سے لا ریب اپنی ایک ضربت ہے
بشر کیا شہ ہے مافوق البشر اپنی شجاعت ہے
پر جبرییل سے پوچھو کے ہم میں کتنی طاقت ہے
ہمارے سامنے سب ہچ یہ فوجوں کی کثرت ہے
مگر بس ہے خیال۔۔۔
دبے جب ہم نہ۔۔۔
عرب کے سورماؤں نے مقابل آ کے دیکھا ہے
سر میدان شعلہ تیغ کا بھڑکا کے دیکھا ہے
نہ بگڑا کچھ تو پھر تیروں کا می برسا کے دیکھا ہے
مسلسل بدر سے سفین تک ٹکرا کے دیکھا ہے
مگر بس ہے خیال۔۔۔
دبے جب ہم نہ۔۔۔
جو کھینچوں تیغ پیدل جا کے اسواروں سا ٹکراییں
کہ شعلے کفر کے دوزخ کے انگاروں سے ٹکرائیں
یہ باطل کی چٹانیں جا کے کہساروں سے ٹکرائیں
یہ بزدل بھاگ کر کوفے کی دیواروں سے ٹکرائیں
با حمدللہ مجھ تنہا کے اندر اتنی طاقت ہے
مگر بس ہے خیال۔۔۔
دبے جب ہم نہ۔۔۔
جوانان بنی ہاشم تو ہے شب ہی سے آمادہ
نماز صبح سے تیغیں دھرے ہیں زیر سجادہ
وہ دیکھو وہ حسن کا لال وہ اکبر سا شاہزادہ
علم کے زیر سایہ سب سے پہلی صف میں استادہ
میرے شیروں کو کوی ٹوک دے یہ کس میں ہمت ہے
مگر بس ہے خیال۔۔۔
دبے جب ہم نہ۔۔۔
فقط اکبر میرا نو لاکھ کے لشکر کو کافی ہے
یہ تیشا ہی فقط ہر سنگ ہر پتھر کو کافی ہے
یہ پیری کا عصا ہر سانپ ہر اژدر کو کافی ہے
علی کی تیغ ہے سارے زمانے بھر کو کافی ہے
فقط کہہ دوں کے ہاں جان پدر جاؤ اجازت ہے
مگر بس ہے خیال۔۔۔
دبے جب ہم نہ۔۔۔
یہ دیکھیں گے کے پیاسے تین دن کے کیسے لڑتے ہیں
بہتر جن کو ہم لاے ہے ان کے کیسے لڑتے ہیں
بڑوں کا ذکر کیا سن کم ہے جن کی کیسے لڑتے ہیں
یہ تیز و تند طوفانوں سے تنکے کیسے لڑتے ہیں
یہ سمجھے ہیں کہ بس ماقوف پانی پر شجاعت ہے
مگر بس ہے خیال۔۔۔
دبے جب ہم نہ۔۔۔
یہ سمجھے ہیں میرے موقوف سے مجھکو دور کر لینگے
با زور تیغ بیعت پر مجھے مجبور کر لینگے
ہٹا کر شمع پروانوں سے کسبے نور کرلینگے
سواد شام سے حاصل چراغِ طور کر لینگے
ہمیں بھی دیکھنا ہے آج ان میں کتنی طاقت ہے
مگر بس ہے خیال۔۔۔
دبے جب ہم نہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.