Kinare furat ke
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Ali Rizvi Sachay
کٹ کر گرے تھے کل جو کنارے فرات کے
وہ ہاتھ آسراء ہیں ہماری نجات کے
یے ٹھوکروں میں آج بھی عباس کے فرات
ایسے دھنی بھی ہوتے ہیں دنیا میں بات کے
کٹ کر گرے تھے۔۔۔
اُن سے بزورِ تیغ یہ بیعت کی کوششیں
جو فتح ڈھال دیتے ہیں سانچے میں مات کے
کٹ کر گرے تھے۔۔۔
ہنستے ہو آنسوؤں پہ ہمارے خدا گواہ
ہم جمع کر رہے ہیں وسیلے نجات کے
کٹ کر گرے تھے۔۔۔
کرب و بلا میں تیرِ ستم کھا کہ اِک صغیر
لہرا گیا جہان پہ پرچم حیات کے
کٹ کر گرے تھے۔۔۔
تیرا ہی دل تھا تو نے اٹھالی جواں کی لاش
صدقے حسین اِس تیرے پائے ثبات کے
کٹ کر گرے تھے۔۔۔
کس جا چھپے ہو اے علی اصغر جواب دو
مادر بھٹک رہی ہے اندھیرے میں رات کے
کٹ کر گرے تھے۔۔۔
ہم بھی غلامِ حر ہیں کرم اے شہِ اُمم
کب سے ہیں منتظِر نزرِ التفات کے
کٹ کر گرے تھے۔۔۔
ہو جائے منحرف یہ زمانہ تو فِکر کیا
ہم فاطمہ سے لیں گے صِلے نوحہ جات کے
کٹ کر گرے تھے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.