Kaun qaail tha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Nadeem Sarwar
کون قائل تھا سلامی کے جناں اور بھی ہے
کربلا دیکھی تو ہم سمجھے کے ہاں اور بھی ہے
کون قائل تھا ۔۔۔
صدقے اُس دل کہ جو ہو حُبّ ِعلی سے آباد
اس سے بہتر کوئی دنیا میں مکاں اور بھی ہے
کربلا دیکھ کے ۔۔۔
کون قائل تھا ۔۔۔
نامِ شبیر پہ بے ساختہ گریہ ہونا
بعد کلمے کہ یہ ایماں کا نشاں اور بھی ہے
کربلا دیکھ کے ۔۔۔
کون قائل تھا ۔۔۔
برچھیاں مار کہ اکبر کو پکارے اعدا
شہہ سے پوچھو کوئی فرزند جواںاوربھی ہے
کربلا دیکھ کے ۔۔۔
کون قائل تھا ۔۔۔
فلکِ پیر تجھے شہہ کی ضعیفی کی قسم
علی اکبر سا زمانے میں جواں اور بھی ہے
کربلا دیکھ کے ۔۔۔
کون قائل تھا ۔۔۔
ماں نے قاسم سے کہا صبحُ کو تم ہو گے شہید
اس لیئے بیاہ کی جلدی میری جاں اوربھی ہے
کربلا دیکھ کے ۔۔۔
کون قائل تھا ۔۔۔
بال کھولے ہوئے لاشے پہ جو آئیں زہرا
کھُل گیا حُر پہ دمِ نزا کہ ماں اور بھی ہے
کربلا دیکھ کے ۔۔۔
کون قائل تھا ۔۔۔
اپنے فرزندوں کہ مرنے پہ بھی گریہ نہ کیا
دہر میں زینبِ مظلوم سی ماں اور بھی ہے
کربلا دیکھ کے ۔۔۔
کون قائل تھا ۔۔۔
شہہ سے زینب نے کہا تم جو ہو مشتاقِ قضا
میری اماں کا کوئی فاتحہ خواں اور بھی ہے
کربلا دیکھ کے ۔۔۔
کون قائل تھا ۔۔۔
لاشے پامال سرِ شام جو ہوتے ہیں نظیر
باغِ زہرا پہ ستم بارِ خزاں اور بھی ہے
کربلا دیکھ کے ۔۔۔
کون قائل تھا ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.