Qaid khane may
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Nadeem Sarwar
ہاے سادات ہاے زندان
قید خانے میں تلاطم ہے کہ ہند آتی ہے
دختر فاطمہ غیرت سے موی جاتی ہے
آسماں دور زمیں سخت کدھر جاؤں میں
یہی بہتر ہے کہ دنیا سے گزر جاؤں میں
بی بیوں مل کے دعا مانگو کے مر جاؤں میں
موت آتی ہی نہیں جان کھچی جاتی ہے
قید خانے میں تلاطم ہے۔۔۔
آمد ہند کا غل عطرت شبیر میں ہے
شور ماتم حرم صاحب تطہیر میں ہے
کہتی ہے جاؤں کہاں پاؤں تو زنجیر میں ہے
پاؤں اٹھتا ہے تو زنجیر لپٹ جاتی ہے
قید خانے میں تلاطم ہے۔۔۔
تھا ادھر بی بی سکینہ سے یہ زینب کا بیاں
ہند دربار سے جب آے گی سوے زنداں
صبر تم کو ہے دکھانا نہ اٹھے شور و فغاں
ہاے یہ دن بھی اسیری تمہیں دکھلاتی ہے
قید خانے میں تلاطم ہے۔۔۔
در زنداں پہ ہوا اتنے میں انبوہ کمال
زہے نصیب کا ہے زنداں میں نزول و اجلال
قیدیوں اٹھ کے دعا دے کے کرو استقبال
زوجہء حاکم دوراں ہے جو یہ آتی ہے
قید خانے میں تلاطم ہے۔۔۔
ہند نے دیکھا کہ بیوؤں کی طرف دی یہ صدا
کس کی یوسف ہے یہ زنداں میں مغفرت بلا
بی بیاں کس کی ہے رکھتی جو نہیں سر پہ ردا
انکے چہروں سے تو کچھ اور جھلک آتی ہے
قید خانے میں تلاطم ہے۔۔۔
دیکھتی کیا ہے کہ اک شیر ہے آہن میں نہاں
لاغر و خستہ تن و فاقہ کش و تشنہ دہاں
نہ تو چلنا کی ساخت ہے نہ کوئی رشتہء جاں
گستاخانوں سے لرزنے کی صدا آتی ہے
قید خانے میں تلاطم ہے۔۔۔
آی نزدیک جو سجاد کے ہند دلگیر
بولی وہ کونسی عصیاں کی ملی یہ تازیر
بولے دسویں کی محرم کی جو پہنی زنجیر
آج تقدیر بھی قیدی ہمیں کہلاتی ہے
قید خانے میں تلاطم ہے۔۔۔
ہند نے پوچھا مرض کیا ہے کہا بیداری
گھر کو دریافت کیا کہنے لگے درباری
بولی لیتا ہے خبر کون کہا بے خبری
جو خبر گیر تھے انکو تو لحد بھاتی ہے
قید خانے میں تلاطم ہے۔۔۔
بابا صاحب کے گلے پر جو نہ خنجر پھرتا
انکے سر کھلتے نہ میں کانٹوں پہ در در پھرتا
اور مدینے کی طرف سب کو میں لے کر پھرتا
یاد حضرت یہ وطن کی ہمیں تڑپاتی ہے
قید خانے میں تلاطم ہے۔۔۔
ہند نے نام مدینے کا جو عابد سے سنا
خاک پر بیٹھ گیء حال یہ تقدیر ہوا
بولی کیا زینب و کلثوم سے نسبت ہے بھلا
ایسے چہروں سے تو خوشبوے وفا آتی ہے
قید خانے میں تلاطم ہے۔۔۔
بولی زینب کے نہ لے زینب و کلثوم کے نام
وہ نبی زادیاں ہیں قید میں ان کا کیا کام
ہند بولی انہیں باتوں میں ہے سب ان کا کلام
کیوں میری روح تمہیں دیکھ کے گھبراتی ہے
قید خانے میں تلاطم ہے۔۔۔
جو بھی صورت ہے وہ معصوم نظر آتی ہے
قدرت خالق قیوم نظر آتی ہے
کوئی زینب کوئی کلثوم نظر آتی ہے
ان سے تقدیر یہ کس حال میں ملواتی ہے
قید خانے میں تلاطم ہے۔۔۔
گرد عابد کے پھری پھر وہ بہ حالِ تاخیر
بولے وہ کون یہ چلای کنیز شبیر
السلام اے رسن و طوق و سلاسل کے اسیر
نوحہ کرتی ہوی قدموں میں گری جاتی ہے
قید خانے میں تلاطم ہے۔۔۔
بس دبیر اب غمِ شبیر سے لرزاں ہے جگر
ہند بھی محوِ عزا آج ہوی ننگے سر
قید خانے میں ہوا سینہ زنی سے محشر
یہی مجلس ہے جو خود مرثیہ کہلاتی ہے
قید خانے میں تلاطم ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.